جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ایسا بھی ہوگا؟ کس نے سوچا تھا؟پنجاب میں مظاہرے پھوٹ پڑے،نئی تاریخ رقم ہوگئی

datetime 25  جنوری‬‮  2016 |

لاہور/ملتان/فیصل آباد( نیوزڈیسک)رگوں میں خون جما دینے والی سردی میں گیس کی شدید قلت کے بعد عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ، لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھرپور احتجاجی مظاہرے کئے گئے ،ملتان میں مظاہرین نے مرغابن کر انوکھا احتجاج کرنے کے ساتھ محکمہ سوئی گیس کا علامتی جنازہ بھی نکالا ، تعطیل کے روز بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی جاری رہی ۔ تفصیلات کے مطابق سردی کی شدت بڑھنے کے بعد لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر علاقوں میںگیس کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا ہے اور عوام کو کھانا پکانے کے لئے بھی گیس دستیاب نہیں۔کئی علاقوں میں گیس کا پریشر اس حد تک کم ہے کہ کھانا پکانا تو درکنار آگ کا شعلہ بھی نہیں بن پاتا جسکی وجہ سے شہری بازار سے ناشتہ اور کھانا لانے پر مجبور ہیں۔ گھریلو خواتین کا کہنا ہے کہ محکمہ سوئی گیس کی طرف سے کھانا بنانے کے اوقات میں گیس دئیے جانے کا شیڈول جاری کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود گیس دستیاب نہیں جس کی وجہ سے زندگی اجیرن ہو گئی ہے ۔ملتان میں گیس کی قلت سے تنگ عوام نے شدید احتجاج کیا جس میں خواتین اور بچوں کی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی ۔ اس موقع پر بچوں نے مرغا بن کر انوکھا احتجاج ریکارڈ کرایا جبکہ محکمہ سوئی گیس کا علامتی جنازہ بھی نکالا گیا ۔ اس موقع پر خواتین نے گیس کے چولہوں کے نیچے لکڑیا ں جلا کر چائے بنا کر احتجاج کیا ۔فیصل آباد میں بھی خواتین نے بچوں اور مردوں کے ہمراہ چولہے اور برتن اٹھا کر محکمہ سوئی گیس اور حکومت کے خلاف احتجاج کیا اور نعرے بازی کی ۔ لاہور میں گوشت مارکیٹ، منصورہ ،سنت نگر ، کاپریس سٹور ،راج گڑھ ،گھوڑے شاہ سمیت دیگر مقامات پر گیس کی عدم دستیابی کے خلاف مظاہرے کئے گئے ۔ دوسری طرف تعطیل کے روز بھی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا ۔ بجلی کی طلب اور رسد میں واضح فرق ہونے کے باعث مختلف شہری علاقوں میں 6سے 8جبکہ دیہی علاقوں میں 9سے 11گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی گئی ۔ تعطیل کے روز بھی لیسکو سمیت دیگر ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے مینٹی ننس کے نام پر چار سے چھ گھنٹے کا مسلسل شٹ ڈاﺅن کیا ۔اس انوکھے احتجاج نے پنجاب میں نئی تاریخ رقم کردی ہے ماضی قریب میں ایسے احتجاج کی مثال نایاب ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…