جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

فضائی سفرکرنے والوں کےلئے پریشانی کی خبر

datetime 23  جنوری‬‮  2016 |

کراچی،لاہور،پشاور،راولپنڈی(نیوزڈیسک)شدید دھند کے باعث بے نظیر انٹر نیشنل ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے جس کی وجہ سے اندرون و بیرون ملک سے آنے والی درجنوں پروازیں گھنٹوں تاخیر کا شکار ہیں۔میڈیا کے مطابق شدید دھند کے باعث حد نگاہ صفر ہونے کے بعد بے نظیر انٹر نیشنل ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن بری طرح متاثر ہو کر رہ گیا ہے اور اندرون و بیرون ملک سے آنے والی 35 پروازیں کئی گھنٹے تاخیر کا شکار ہیں۔ شدید دھند کے باعث بے نظیر ائیرپورٹ پر آنے والی 8 پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔ فلائٹ انکوائری کے مطابق شارجہ، دوحا اور ابو ظہبی سے آنے والی پرواشیں منسوخ کر دی گئی ہیں جب کہ بے اسلام آباد سے دوحا، ابو ظہبی جانے والی پروازیں بھی تاخیر کا شکار ہیں۔اسلام آباد سے ابوظہبی کی 3 اور کراچی کی 5 پروازیں منسوخ جب کہ سکرو، گلگت، سکھر، کوئٹہ، دوحا اور ارمچی جانے والی پروازیں تاخیر کا شکار ہیں۔ پروازوں میں تاخیر کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بے نظیر انٹر نیشنل ایئرپورٹ کی فلائٹ انکوائری کا کہنا ہے کہ رن وے پر حد نگاہ صفر ہے اور دھند رہنے تک فلائٹ آپریشن معطل رہے گا۔ دوسری جانب ایئرپورٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ بے نظیرائیرپورٹ کا لینڈنگ اور ٹیک آف سسٹم نہایت پرانا ہوچکا ہے جس کی وجہ سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، جدید سسٹم آئی ایل ایس نصب ہوتا تو دھند کے دوران فضائی سفر ممکن تھا۔ایئر پورٹ ذرائع کے مطابق بے نظیر ائیرپورٹ کی تزئین و آرائش پر گذشتہ برس 50 کروڑ روپے لگائے گئے لیکن طیاروں کی بحفاظت لینڈنگ کا کوئی جدید نظام نصب نہیں کیا گیا۔ بے نظیر ائیرپورٹ پر فلائٹ آپریشن میں تاخیر کے باعث بین الاقوامی ائیرلائنز نے بہت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ترجمان سول ایوی ایشن کے مطابق فضائی سفر کا جدید نظام پورے جنوبی ایشیا میں صرف 2 ائیرپورٹس پر نصب ہے، آئی ایل ایس سسٹم لاہور اور نیو دہلی ائیرپورٹ پر نصب ہے، بے نظیر ائیرپورٹ پردھند کے دوران فضائی سفر جاری رکھنے کا جدید نظام موجود نہیں، آئی ایل ایس سسٹم نیو بے نظیر ائیرپورٹ فتح جھنگ میں نصب کیا گیا ہے، وہاں فلائٹ آپریشن شروع ہونے کے بعد دھند میں بھی پروازیں لینڈ کر سکیں گی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شدید دھند کا یہ سلسلہ مزید چار دن تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…