اسلام آباد(نیوزڈیسک)ترجمان وزارت خزانہ نے وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کے خلاف الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ کیس لاہور ہائیکورٹ نے 1996ءمیں خارج کر دیا تھا۔ وزارت خزانہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ روز میڈیا کے ایک سیکشن میں پھر اس طرح کے لگائے گئے الزامات بالکل بے بنیاد ہیں، جن کو واضح طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔ ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں وفاقی حکومت میں شمولیت کیلئے سینیٹر اسحاق ڈار پر دباﺅ ڈالنے کی خاطر ان پر مقدمہ قائم کیا گیا۔حالانکہ یہ کیس 1996ءمیں اپنی موت آپ مر گیا تھا،مشرف دور میں دوبارہ اس مردہ کیس کو زندہ کیا گیا لیکن 11 مارچ 2014ءکو لاہور ہائیکورٹ نے اس کیس کو خارج کر دیا۔ یہ حتمی فیصلہ پروپیگنڈہ کے خاتمے کیلئے کافی ہے۔ تاہم ترجمان نے کہا کہ 2001ءمیں اسحاق ڈار کے خلاف اثاثے اور دولت اکٹھا کرنے کا اوچھا مقدمہ بنایا گیا، یہ بے بنیاد مقدمہ بدنیتی پر مبنی ایک گمنام شکایت پر قائم کیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے اثاثوں کی مکمل تفصیل ٹیکس حکام اور الیکشن کمیشن کو فراہم کی گئی معلومات میں موجود ہے۔
اسحاق ڈار کے خلاف منی لانڈرنگ کیس،وضاحت سامنے آگئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)
-
سعودی عرب کا پاکستانی شہریت ترک کرنے والوں کے لیے بڑا اعلان
-
اسلام آباد میں 258 چینی شہری گرفتار
-
بارشوں کے نئے اسپیل کی پیشگوئی، گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا
-
رواں ہفتے تمام بینک 3 دن بند رہیں گے، اعلان ہوگیا
-
سابق کرکٹر عاقب جاوید کی بیٹی کی برطانیہ میں شادی، تصاویر وائرل
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے لیے گفٹ اسکیم ! اہم خبر آگئی
-
معروف ٹک ٹاکر وکیل میاں بلال عبداللہ گرفتار
-
مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں کمی
-
ربیع الاول کے چاند سے متعلق اعلان ہوگیا
-
رخصتی گھر سے کریں گے، والد نے پسند کی شادی کرنے والی بیٹی کو گھر لے جا کر مار دیا
-
بین الاقوامی اورمقامی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمت میں مزید اضافہ



















































