ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

سکیورٹی خدشات ، پنجاب پولیس نے نیا کام شروع کردیا

datetime 14  دسمبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوز ڈیسک) صوبہ پنجاب کے دارالحکومت پنجاب کی پولیس نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر مختلف مذہبی، سیاسی اور سماجی اجتماعات کی نگرانی کے لیے چار ڈرون کیمروں کا استعمال شروع کردیا ہے۔پولیس ہیڈ کوارٹرز کے سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) عمر سعید نے نجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ دہشت گردی کے خطرات اور عوامی اجتماعات کی نگرانی کے لیے مختلف طریقہ کار اور سیکیورٹی آلات کے ساتھ ڈرون کیمروں کا استعمال بھی شروع کردیا گیا ہے.ان کا کہنا تھا کہ ڈرون کیمروں سے عوامی اجتماعات کے دوران کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے میں بھی مدد مل رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اب تک ان کیمروں کو داتا دربار کے عرس، چہلم حضرت امام حسین، این اے 122 میں ضمنی انتخاب اور 21 رمضان کو یوم حضرت علی کے موقع پر نکالے گئے جلوسوں کے دوران فضائی نگرانی کے لیے کامیابی سے استعمال کیا گیا.عمر سعید نے بتایا کہ یہ کیمرے 100 سے 200 فٹ کی بلندی پر پرواز کرسکتے ہیں اور ان میں 20 منٹ تک کام کرنے والی ریچارج ایبل بیٹریز استعمال ہوتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایچ ڈی کیمروں سے لیس یہ ڈرونز انسانی آنکھ، سی سی ٹی وی کیمروں یہاں تک کہ ہیلی کاپٹر سے بھی فضائی نگرانی سے زیادہ طاقتور اور کارآمد ہیں، جو کسی بھی مشکوک سرگرمی اور شخص کی کڑی نگرانی کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان ڈرون کیمروں کے استعمال کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مشکوک شخص ڈرونز سے نگرانی سے بے خبر رہتا ہے اور بلندی پر پرواز کے باعث یہ نہیں معلوم کیا جاسکتا کہ ڈرون کس کی نگرانی کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ کیمرے رات میں بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کیمرے خودکش حملے کے اہم شواہد اکھٹے کرنے اور حملہ آور کی پہچان میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، جبکہ سی سی ٹی وی کیمرے ایسی صورتحال میں یا تو تباہ ہوجاتے ہیں یا پھر صحیح ریکارڈنگ نہیں کرپاتے جس سے کیس حل کرنے میں تاخیر ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…