ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

پاکستانیوں کیلئے ایک اور بری خبر۔۔۔!!!سابق وزیر خزانہ نے بھانڈا پھوڑ دیا

datetime 13  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (آن لائن) پاکستان کا بیرونی قرضہ اگلے چار برسوں میں ریکارڈ 90 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے ملک کو بیرونی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے 20 ارب ڈالر سالانہ درکار ہوں گے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بیرونی قرضہ جات کے اعداد و شمار معروف ماہر معیشت اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے اکٹھے کئے ہیں ۔ جس میں کہا گیا ہے کہ بیرونی قرضوں کے اعداد و شمار آئی ایم ایف کی جانب سے کی گئی پیشگوئی سے 14 ارب ڈالر زیادہ ہیں ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر پاشا کے اعداد و شمار سرکاری ڈیٹا پر مبنی ہیں 14 ارب ڈالر کا فرق ان غیر ملکی قرضوں کے حوالے سے ہے جو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں میں لگیں گے حکومت پاک چین اقتصادی راہداری کے قرضوں کو مجموعی سرکاری قرضوں میں شامل نہیں کر رہی ۔ وزارت خزانہ کے قرضہ آفیس کے ڈی جی احتشام راشد کا کہنا ہے کہ سردست ہمارے پاس ان قرضوں کی تفصیلات نہیں ہیں جو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں آئیں گی ۔انہوں نے کہا کہ جیسے ہی تفصیلات دستیاب ہوتی ہیں تو ان کا آفس تمام قرضوں کی نئی حکمت عملی طے کرے گا ۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں راہداری منصوبے کے لئے انتہائی سپورٹ ہے تاہم اس گیم چینجر منصوبے کے لئے ملک کے لئے بڑے مالیاتی مضمرات ہیں تاکہ قرضوں کے بہتر انتظام کو اجاگر کیا جا سکے ۔ڈاکٹر پاشا کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک ہفتے پہلے اسٹیٹ بنک کے گورنر اشرف بسرا نے ریمارکس دیئے تھے کہ قرضوں اور راہداری منصوبوں کے حوالے سے مزید تفصیلات کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے حکومت پر مزید شفافیت پر زور دیا تھا ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق موجودہ بجٹ خسارہ مشینری کی درآمد اور راہداری منصوبوں کے پلانٹ باعث وسیع ہو جائے گا ۔ سابق پرنسپل اکنامکس ایڈوائزر ثاقب شیرانی کا کہنا ہے کہ حکومت قرضوں کے اعداد و شمار سے کھیل رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حوالے سے قرضوں اور جی ڈی پی کی نسبت غیر متعلقہ ہو چکی ہے کیونکہ ملک قرضوں کی واپس ادائیگی کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ کیونکہ موجودہ قرضوں اور جی ڈی پی کی شرح 65 فیصد کی شرح پر ہے ۔ ڈاکٹر پاشا کا کہنا ہے کہ 2018-19 کے بعد قرضوں اور ریونیو کی شرح 750 فیصد سے زائد ہو جائے گی ۔مشہور ماہری معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے ایک ایسا قانون ہونا چاہئے جس کے ذریعے حکومت کسی بھی غیر ملکی حکومت سے ڈیل کرتے وقت پارلیمنٹ کی منظوری لے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…