پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پرویز مشرف کے ٹرائل کیلئے قائم خصوصی عدالت تحلیل ہونے کا امکان

datetime 12  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) غداری کے الزام میں سابق صدر پرویز مشرف کے ٹرائل کے لیے قائم خصوصی عدالت کاباقاعدہ اعلان کے بغیر خود ہی ختم ہونے کا امکان ہے۔جوڈیشل کمیشن نے خصو صی عدالت کے رجسٹرار عبد الغنی سومرو کو سندھ ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج لگانے کی سفارش کردی ہے جب کہ امکان ہے کہ خصو صی عدالت کے سربراہ اور سندھ ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس فیصل عرب کو سپریم کورٹمیں تعینات کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اگر جسٹس فیصل عرب کو سپریم کورٹ میںتعینات کیا گیا تو سنگین غداری کے الزام کی سماعت کیلئے قائم خصوصی عدالت تحلیل ہوجائے گی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ میںججوں کی خالی اسامیوں کو پر کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 20 اکتوبر کو منعقد ہوگا جس میں سابق چیف جسٹس نا صر الملک اور سابق چیف جسٹس جواد ایس

مزیدسنئے:شیوسینا کے کارکنوں نے سابق وزیرخارجہ خورشید قصوری کی کتاب کی رونمائی کرنیوالےکے ساتھ کیا سلوک کیا

خواجہ کی رٹائرمنٹ سے خالی ہونے والی نشستوں پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منظور احمد ملک اور سنیئر ترین جج جسٹس سردار طارق مسعود کی سپریم کورٹ میں تقرری کا جائزہ لیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق امکان ہے کہ اسی اجلا س میں آج جسٹس سرمد جلال عثمانی کی رٹائرمنٹ سے خالی ہونے والی نشست پر سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس فیصل عرب کی تقرری پر غور کیا جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ جسٹس فیصل عرب کے سپریم کورٹ کے جج بن جانے کے بعد غداری کے مقدمے کے ٹرائل کے لیے قائم خصوصی عدالت ختم ہوجائے گی۔ اس ضمن میں قومی اخبار نے جب قانون و انصاف کے لیے وزیر اعظم کے مشیر اشتر اوصاف علی سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ اگر خصوصی عدالت کے سربراہ سپریم کورٹ کے جج بن گئے تو غداری کیس کے ٹرائل کے لیے از سر نو عدالت تشکیل دی جائے گی۔ انھوں نے کہاکہ خصو صی عدالت کی تشکیل کے لیے وہی طریقہ کار اپنایا جائے گا جو پہلے اپنایا گیا تھا، چیف جسٹس پاکستان کے مشورے سے ججوں کا انتخاب کیا جائے گا۔سپریم کورٹ میں غداری سے متعلق ایک کیس میں پرویز مشرف کے وکیل ابراہیم ستی ایڈوکیٹ نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ویسے تو 2 جج بھی ٹرائل جاری رکھ سکتے ہیں لیکن تکنیکی طور پر خصوصی عدالت تحلیل ہوجائے گی اور وفاقی حکومت ایک نئے نوٹیفکیشن کے ذریعے نئی عدالت قائم کرے گی، جب تک نئی عدالت قائم نہیں ہوتی ٹرائل نہیں ہوسکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…