بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی ۔۔۔! این اے 122 کے انتخابات ،جماعت اسلامی نے سنگین الزام لگادیا

datetime 11  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہور(اےن اےن آئی )امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ سود کے بارے میں سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج کے ریمارکس سے قوم کے اندر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ، آئین میں قرآن و سنت کو سپریم لاءتسلیم کیا گیا ہے جس میں سود کو اللہ اور رسول سے جنگ قرار دیا گیاہے ، عدالت کے جج کے ریمارکس سے پاکستانیوں کی دل شکنی ہوئی ہے ، این اے 122 کے انتخابات سے ثابت ہو گیاہے کہ الیکشن کمیشن اپنے ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد نہیں کرواسکا ، انتخابات کو دولت کا کھیل بنادیاگیاہے ، عام آدمی اس کھیل میں حصہ لینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا، الیکشن کمیشن بے بسی کی تصویر بنا ہواہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں جاری تربیتی ورکشاپ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر شعبہ تربیت کے نگران حافظ محمد ادریس بھی موجود تھے ۔ تربیت گاہ میں ملک بھر سے سینکڑوں کارکنان شریک ہیں ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان اس وقت اندرونی و بیرونی سازشوں کا شکار ہے ۔ کلمہ کی بنیاد پر حاصل کیے گئے ملک میں مغرب زدہ قوتیں لاقانونیت کے غلبہ کی کوشش کرر ہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے اس لیے اپنی جانیں قربان نہیں کی تھیں کہ یہاں انگریز کا وہی نظام رائج کردیا جائے جس سے نجات کے لیے انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان مدینہ کی ریاست کے بعد اسلام کے نا م پر بننے والی دوسری مملکت تھی جس کی طرف لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی ۔ انہوں نے کہاکہ 68سال میں ایک دن کے لیے ملک میں اسلامی نظام کو نہیں آزمایا گیا ۔ آج ملک جن گوناگومسائل میں گھرا ہواہے ، اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے آئین پر عملدرآمد نہیں کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ انتخابی عمل سے عوام کا اعتماد اٹھ چکاہے ۔ لاہور میں دونوں پارٹیاں تمام تر کوششوں کے باوجود ووٹرز کو گھر سے نکالنے میں ناکام رہیں ۔ کم ٹرن آﺅٹ سے ثابت ہوتاہے کہ عوام موجودہ انتخابی طریقہ کار سے مطمئن نہیں ہیں ۔ الیکشن کمیشن نے عدالتی ٹریبونل اور پارلیمنٹ کی مشترکہ اصلاحاتی کمیٹی کی تجاویز پر بھی عمل نہیں کیا ۔ انہوں نے کہاکہ سیاست اور جمہوریت کو جاگیرداروں ، وڈیروں اور سرمایہ داروں نے یرغمال بنارکھاہے ۔ انتخابات میں وہی حصہ لے سکتاہے جس کے پاس لاکھوں اور کروڑوں روپے ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ دو لت مند اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے اربوں روپے الیکشن میں جھونک دیتے ہیں اور پھر اقتدار میں آ کر قومی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن کے پیسے سے اقتدار میں آنے والوں کی جگہ ایوان نہیں، اڈیالہ جیل ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کا اصل مسئلہ قیادت کا فقدان ہے ۔ ملکی اقتدار پر قابض اشرافیہ عوام کو غلام بنا کر رکھنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کے اپنے اندر جمہوریت نہیں ۔ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس میں حقیقی جمہوریت ہے اور جس کی قیادت کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ 2018 ءکے انتخابات میں جماعت اسلامی بڑی عوامی قوت بن کر سامنے آئے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…