اتوار‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2025 

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی ۔۔۔! این اے 122 کے انتخابات ،جماعت اسلامی نے سنگین الزام لگادیا

datetime 11  اکتوبر‬‮  2015
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور(اےن اےن آئی )امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ سود کے بارے میں سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج کے ریمارکس سے قوم کے اندر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ، آئین میں قرآن و سنت کو سپریم لاءتسلیم کیا گیا ہے جس میں سود کو اللہ اور رسول سے جنگ قرار دیا گیاہے ، عدالت کے جج کے ریمارکس سے پاکستانیوں کی دل شکنی ہوئی ہے ، این اے 122 کے انتخابات سے ثابت ہو گیاہے کہ الیکشن کمیشن اپنے ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد نہیں کرواسکا ، انتخابات کو دولت کا کھیل بنادیاگیاہے ، عام آدمی اس کھیل میں حصہ لینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا، الیکشن کمیشن بے بسی کی تصویر بنا ہواہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں جاری تربیتی ورکشاپ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر شعبہ تربیت کے نگران حافظ محمد ادریس بھی موجود تھے ۔ تربیت گاہ میں ملک بھر سے سینکڑوں کارکنان شریک ہیں ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان اس وقت اندرونی و بیرونی سازشوں کا شکار ہے ۔ کلمہ کی بنیاد پر حاصل کیے گئے ملک میں مغرب زدہ قوتیں لاقانونیت کے غلبہ کی کوشش کرر ہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے اس لیے اپنی جانیں قربان نہیں کی تھیں کہ یہاں انگریز کا وہی نظام رائج کردیا جائے جس سے نجات کے لیے انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان مدینہ کی ریاست کے بعد اسلام کے نا م پر بننے والی دوسری مملکت تھی جس کی طرف لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی ۔ انہوں نے کہاکہ 68سال میں ایک دن کے لیے ملک میں اسلامی نظام کو نہیں آزمایا گیا ۔ آج ملک جن گوناگومسائل میں گھرا ہواہے ، اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے آئین پر عملدرآمد نہیں کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ انتخابی عمل سے عوام کا اعتماد اٹھ چکاہے ۔ لاہور میں دونوں پارٹیاں تمام تر کوششوں کے باوجود ووٹرز کو گھر سے نکالنے میں ناکام رہیں ۔ کم ٹرن آﺅٹ سے ثابت ہوتاہے کہ عوام موجودہ انتخابی طریقہ کار سے مطمئن نہیں ہیں ۔ الیکشن کمیشن نے عدالتی ٹریبونل اور پارلیمنٹ کی مشترکہ اصلاحاتی کمیٹی کی تجاویز پر بھی عمل نہیں کیا ۔ انہوں نے کہاکہ سیاست اور جمہوریت کو جاگیرداروں ، وڈیروں اور سرمایہ داروں نے یرغمال بنارکھاہے ۔ انتخابات میں وہی حصہ لے سکتاہے جس کے پاس لاکھوں اور کروڑوں روپے ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ دو لت مند اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے اربوں روپے الیکشن میں جھونک دیتے ہیں اور پھر اقتدار میں آ کر قومی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن کے پیسے سے اقتدار میں آنے والوں کی جگہ ایوان نہیں، اڈیالہ جیل ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کا اصل مسئلہ قیادت کا فقدان ہے ۔ ملکی اقتدار پر قابض اشرافیہ عوام کو غلام بنا کر رکھنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کے اپنے اندر جمہوریت نہیں ۔ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس میں حقیقی جمہوریت ہے اور جس کی قیادت کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ 2018 ءکے انتخابات میں جماعت اسلامی بڑی عوامی قوت بن کر سامنے آئے گی ۔



کالم



پہلے درویش کا قصہ


پہلا درویش سیدھا ہوا اور بولا ’’میں دفتر میں…

آپ افغانوں کو خرید نہیں سکتے

پاکستان نے یوسف رضا گیلانی اور جنرل اشفاق پرویز…

صفحہ نمبر 328

باب وڈورڈ دنیا کا مشہور رپورٹر اور مصنف ہے‘ باب…

آہ غرناطہ

غرناطہ انتہائی مصروف سیاحتی شہر ہے‘صرف الحمراء…

غرناطہ میں کرسمس

ہماری 24دسمبر کی صبح سپین کے شہر مالگا کے لیے فلائیٹ…

پیرس کی کرسمس

دنیا کے 21 شہروں میں کرسمس کی تقریبات شان دار طریقے…

صدقہ

وہ 75 سال کے ’’ بابے ‘‘ تھے‘ ان کے 80 فیصد دانت…

کرسمس

رومن دور میں 25 دسمبر کو سورج کے دن (سن ڈے) کے طور…

طفیلی پودے‘ یتیم کیڑے

وہ 965ء میں پیدا ہوا‘ بصرہ علم اور ادب کا گہوارہ…

پاور آف ٹنگ

نیو یارک کی 33 ویں سٹریٹ پر چلتے چلتے مجھے ایک…

فری کوچنگ سنٹر

وہ مجھے باہر تک چھوڑنے آیا اور رخصت کرنے سے پہلے…