اتوار‬‮ ، 25 جنوری‬‮ 2026 

مصحف علی میر کے طیارے میں کوئی فنی خرابی نہیں تھی،راناتنویرحسین

datetime 6  اکتوبر‬‮  2015 |

۔اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین نےآڈٹ حکام کے دعوے کو مستردکردیاہے کہ فضائیہ کے سابق سربراہ مصحف علی میر کا طیارہ خراب تھا۔ آڈٹ حکام نے قومی اسمبلی کی کمیٹی میں بیان تھا کہ خراب ہونے کے باعث نیوی اور پی آئی اے نے طیارہ لینے سے انکار کردیا تھا۔فضائیہ کے شہید ایرچیف مصحف علی میر کا طیارہ خراب تھا یا ٹھیک ، نیاتنازع کھڑا ہوگیا۔ کل انکشاف کیا گیا کہ طیارہ خریداری کےو قت سے ہی خراب تھا۔ آج وزیر دفاعی پیداوار نےآڈٹ حکام کا دعویٰ مسترد کردیاہے ۔وفاقی وزیر رانا تنویر کا دعویٰ ہے کہ سابق ایرچیف کا طیارہ پرواز کے وقت مکمل فٹ تھا ۔ اور یہ طیارہ موسم کی خرابی کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوا۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں گزشتہ روز آڈٹ حکام نے یہ انکشاف کیا کہ نیوی اور پی آئی اے نے نہ صرف اس طیارے کو خریدنے سے انکار کیا تھا بلکہ نیوی نے اس کی حالت کو انتہائی خراب قراردیا تھا۔ اسی اجلاس میں دفاعی پیداوار کے حکام نےموقف دیا کہ موسم کی خرابی اور پائلٹ کی غلطی بھی حادثہ کی وجہ بنی ۔ ایف 27 فوکر طیارہ وہ جہاز تھا جس میں فضائیہ کے سابق سربراہ مصحف علی میر کو 2003 میں کوہاٹ کے قریب حادثہ پیش آیا۔ حادثہ کی اصل وجہ کیا تھی ۔پائلٹ کی غلطی ، موسم یا پھر طیارے کی خرابی ۔ ایک ماہ بعد جب آڈٹ اور دفاعی پیداوار کے حکام کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے تو شاید اصل حقیقت سامنے آسکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…