لاہور(نیوزڈیسک)ممبر الیکشن کمیشن پنجاب جسٹس (ر) ریاض کیانی نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے لگائے الزامات کے جواب میں تفصیلی اعلامیہ جاری کر دیا جو اُنہوں نے اپنے الفاظ میں قلمبند کروایا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کا الیکشن کمشن، مجھے اور ادارے سے جُڑے دوسرے افسران کو متواتر نشانہ بنانا اور 2014ءکے انتخابات میں دھاندلی کا مرتکب ہونے کا الزام لگانا ایک سفید جھوٹ سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔ میں اِس امر میں اوّل تو اُن لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کروں گا جنہوں نے عمران خان کو منتخب کر کے قومی اسمبلی کا ممبر بنایا۔ مجھ پر ایسے گھناﺅنے الزامات لگا کر کہ میں شریف برادران کا قانونی مشیر رہا اور اسلئے انتخابات میں میں نے اُن کی طرفداری کی، عمران خان نے یہ ثابت کردیاکہ بے شک وہ کرکٹ کی دُنیا میں بہت بلند مقام رکھتے ہیں لیکن سیاست میں اُن کی حیثیت بہت چھوٹی ہے۔ اُن کے اس الزام سے مجھے بہت شدید صدمہ پہنچا اور حیرانگی بھی ہوئی۔مزید کہا گیا کہ میں نے 1963ءمیں قانون کی پریکٹس شروع کی اور تب سے لیکر 1998ءمیں میری بنچ پر تقرری تک ، میں چیلنج کرتا ہوںکہ اِس دور کے کسی بھی ایڈووکیٹ سے میرا احتساب کرائیے۔ آپکو اِن اِلزامات کا جواب نفی میں ہی ملے گا۔ میں کبھی بھی شریف برادران کا قانونی مشیر نہیں رہا، نہ کسی بھی کورٹ میں کبھی اُن کے مقدمات لڑے نہ ہی کبھی کوئی قانونی رائے دی۔ کیپٹن یہ کیسا سفاک جھوٹ ہے، اِس بات کا خیال رکھئےے کہ دوسروں کے بے داغ اور سالہاسال کی محنت سے کمائے ہوئے نام اور کردار کو اس طرح خراب مت کرئیے۔ میں اپنے نام پر ایسی فضولیات برداشت نہیںکروںگا ۔ میں اپنے ضمیر پر پورا قابو رکھتا ہوں۔ جو کہ آپ کی سمجھ بوجھ سے باہر ہے۔اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ صوبائی الیکشن کمشنر سندھ ایس ایم طارق قادری نے 11-08-2014کی رات 09:50پر تمام میڈیا کے چینلز پر اِس بات کی کھلی تردید کی ہے کہ وہ جناب پرویز ملک کو جانتے ہیں اور نہ ہی اُنہیں میری طرف سے کوئی ایسی ہدایات جاری کی گئیںکہ پرویز ملک کے احکامات پر عمل کیا جائے۔ یہ بیانات آپکے بے مقصد اور بے بنیاد اِلزامات کومٹی میں ملانے کیلئے کافی ہیں۔ آپ کو لفظ”شرمناک” اپنی تقاریر میں استعمال کرنے کا بہت شوق ہے۔ آج ذرا سوچئیے کہ یہ لفظ دراصل کس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ہاں۔ مجھے چئیرمین ہائی رائز بلڈنگ تعینات کیا گیا تھا۔ یہ تعیناتی سپریم کورٹ کے ڈویثر ن بنچ نے بار کے ساتھ مشاورت کے بعد مئی2007میں کی اور میں اس عہدے پر مئی 2009تک کام کرتا رہا اور پھر استعفیٰ دیا کیونکہ میری تعیناتی بطور وفاقی سیکرٹری قانون ہوگئی۔ شائد اِس سے آپ کی تشفی ہو کہ میری یہ تعیناتی شریف برادران کے مرہون منت نہیں ہوئی تھی کیونکہ وہ تو اُس وقت ملک بدر کر دئیے گئے تھے اور پاکستان میں موجود ہی نہ تھے۔ مجھ سے نفرت کی جاتی ہے کیونکہ الیکشن کمشن میں زیادہ تر فیصلے میرے ہاتھوں قلمبند ہوئے ہیں۔ جیتے ہوئے لوگ میری تعریف کرتے ہیں۔ مگر ہارے ہوئے تنقید کے سوا کچھ نہیں کر پاتے۔ آپ اپنی سیاست شوق سے کیجئے لیکن میں خبردار کرتا ہوں کہ کوئی بھی میرے ضمیر پر حکم نہ چلائے ۔اﷲرب العزت کبھی بھی آپ کو وہ عظیم مقام عطا نہ کرے گا جس کی آپ اِسوقت شدید خواہش کر رہے ہیں، جب تک کہ آپ جھوٹ کا سہارا لیتے رہیںگے۔
الیکشن کمیشن پنجاب کاعمران خان کیخلاف اعلامیہ جاری،عمران خان کو ان کی حیثیت بتادی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
ملازمین کے لیے بنیادی تنخواہ کا 250 فیصد الاؤنس! حکومت کا بڑا اعلان
-
اے آئی سے بنائی گئی ”خاتون وکیل”کی وائرل ویڈیوز کا معاملہ سائبر کرائم ایجنسی پہنچ گیا
-
چھوٹے کاروبار شروع کرنے والوں کے لیے خوشخبری، آسان قرضوں کی سہولت
-
سرکاری ملازمین کے جی پی فنڈ کی ماہانہ کٹوتی کے نئے ریٹس مقرر
-
وزیراعظم “اپنا گھر پروگرام” : قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر آگئی
-
پنجاب حکومت کا نکاح خواں اور رجسٹرارز کے گرد گھیرا تنگ
-
زلزلے کے جھٹکے ،شہری خوفزدہ ہو کر گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے
-
مریم نواز کا لیگل نوٹس !چوہدری سالک حسین نے بڑا اعلان کردیا
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں آج بھی بڑا اضافہ
-
ای چالان اب گھر بیٹھے منسوخ کروائیں!
-
مسلسل2 روز تیزی کے بعد سونے کی قیمت میں کمی، چاندی بھی سستی ہو گئی
-
سہیل آفریدی سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریوں کے مقدمات سے متعلق بڑا حکم
-
پیٹرولیم صارفین کے لیے اہم خبر، عالمی مارکیٹ سے بڑی اپڈیٹ آگئی



















































