بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

خیبر پختو نخوا کے 26وفاقی وصوبائی اداروں کے ملازمین سرکاری اداروں کی نجکاری کےخلاف متحدہوگئے

datetime 1  اکتوبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)خیبر پختو نخوا کے 26صوبائی ووفاقی اداروں کے ملازمین نے سرکاری اداروں کی نجکاری اور دیگر مطالبات کےلئے ایکا کرلیا اور صوبائی و مرکزی حکومت سے اپنے مطالبات کے حوالے سے 12اکتوبر کا ڈیڈلائن دیتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو وہ 13اکتوبر سے صوبے بھر میں احتجاجی تحریک شروع کردینگے ۔پشاور پریس کلب میں آل پاکستان گورنمنٹ ایمپلائز کو آرڈینشن کونسل کے صوبا ئی چیئر مین مزمل ترنابی ،صوبائی صدر اسلم خان،جنرل سیکرٹری گوہر تاج، سیرالدین برنی ودیگر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مختلف فورم کے ذریعے اپنے مطالبات حکومتی عہدیداروں تک پہنچائیں مگر حکومتی عہدیدار وں نے ان کے مطالبات پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ،انہوں نے اپنے مطا لبات کے حوالے سے صوبائی ومرکزی حکومت کے سامنے چار ٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا ، چارٹر آف ڈیمانڈ کے مطابق نادرا ایمپلائز یونین کے مرکزی صدر سلیم شیر پاو،جنرل سیکرٹری اور سندھ کے چار عہدیداروں کی بحالی اور نادرا سروس میں سروس سٹرکچر کا نفاذ ،تمام اداروں میں نجکاری کے نام پر بندربانٹ بند کیاجائے، ایڈہاک ریلیف 75فیصد کو بنیادی تنخوا ہ میں ضم کیا جائے، ۔خیبر پختو نخوا سول سرونٹس ریٹائر منٹ بینیفنٹ اینڈ ڈیتھ کمیشن ایکٹ2014کو فی الفور من وعن لاگو کیا جائے ۔پشاور کے خود مختار چار ہسپتالوں کو صوبے کے دوسرے ملازمین کی طرح تاریخ استحقاق سے مراعات دی جائے، احتساب سب کےلئے مگر احتساب کمیشن کے نام پر سرکاری ملازمین کیخلاف محکمانہ کارروائی بند کی جائے ۔ سن کوٹہ 33فیصد بحال کیا جائے ، ریگی للمہ ٹاون میں الاٹ کئے گئے پلاٹوں کا قبضہ دیا جائے، سرکاری ملازمین کی رہائشی الاٹمنٹ کی پرانی پالیسی بحال کی جائے، انہوں نے 12اکتوبر کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے کہا کہ اگر انکے مطالبات حل نہ کئے گئے تو13اکتوبر کو تمام اداروں کے سرکاری ادراوں کے ملازمین جناح پارک میں جلسہ اور بعد ازاں گورنر ہاﺅس تک احتجاج ریلی نکالے گی اور دوسرے مرحلے میں پھر تمام سرکاری اداروں کو بند کرکے سڑکوں پر دما دم مست قلندر ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…