بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

جہانگیرترین کاوکیل عدالت میں مسلسل خاموش کیوں رہا؟ایک سیاستدان کاعجیب وغریب انکشاف

datetime 30  ستمبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور این اے 154 لودھراں سے امیدوار خواجہ عامر فرید کوریجہ نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین کے وکیل نے سپریم کورٹ میں دانستہ دلائل نہ دیکر سٹے آرڈر کی راہ ہموار کی۔ یہ سٹے آرڈر دونوں امیدواروں کے درمیان خاموش مفاہمت کا شاخسانہ ہے۔ حلقہ این اے 154 میں عوامی تحریک کی جاندار انتخابی مہم کی وجہ سے شیر اور بلا سہمے ہوئے تھے۔ خواجہ عامر فرید کوریجہ نے سٹے آرڈر کے حوالے سے فیصلہ آنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے شدید ردعمل میں کہا کہ جہانگیر ترین کو اس بات کی وضاحت کرنا پڑے گی کہ ان کا وکیل کیوں خاموش رہا اور ان کا اندر کھاتے ن لیگ کے امیدوار کے ساتھ کیا مک مکا ہوا؟ یہ بات حلقہ اور پاکستان کے عوام کسی صورت ہضم کرنے کیلئے تیار نہیں کہ ملکی سطح پر توجہ حاصل کرنے والے کیس میں جہانگیر ترین کے وکیل نے یہ کہہ کر فلور مخالف امیدوار کی حمایت میں خالی چھوڑ دیا کہ اس کی تیاری نہیں ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں ٹھوس آئینی و قانونی دلائل رقم کرتے ہوئے صدیق بلوچ کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہل قرار دیا۔ جہانگیر ترین کے وکیل کو مزید کس قسم کے دلائل اور تیاری کی ضرورت تھی؟ انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مک مکا کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے سپریم کورٹ کا فلور استعمال کیا گیا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو بھی اس کا نوٹس لینا ہو گا کہ ٹربیونل کے اندر ان کے امیدواروں کا کیس لڑتے وقت جو جوش و خروش تھا وہ سپریم کورٹ کے فلور پر ٹھنداکیوں پڑ گیا؟خواجہ عامر فرید کوریجہ نے کہا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے امیدوار کی جیت کے خوف سے دونوں حریف حلیف بننے پر مجبور ہوئے۔انہوں نے کہا کہ سٹے آرڈر کے کیس میں فریق بننے کیلئے وکلاءسے مشاورت شروع کر دی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…