بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

متحدہ کے ”بھائی“کا کیس لڑنے پر عاصمہ جہانگیر مشکل میں پڑ گئی

datetime 29  ستمبر‬‮  2015 |
Press Conference: Ms. Asma Jahangir, Special Rapporteur on Freedom of Religion or Belief.

لاہو(نیوزڈیسک) وکلاءنے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سربراہ الطاف حسین کے میڈیا بلیک آو ¿ٹ سے متعلق کیس لڑنے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر اور سرگرم کارکن عاصمہ جہانگیر کے لائسنس کی فوری منسوخی کا مطالبہ کردیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایڈووکیٹ آفتاب ورک کی قیادت میں لاہور ہائی کورٹ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے وکلاءنے الزام لگایا کہ متحدہ قومی موومنٹ 2007 میں عدلیہ کی بحالی کےلئے شروع کی جانے والی تحریک کے دوران وکلاءکے قتل میں ملوث ہے۔مظاہرین نے ایم کیو ایم قائد الطاف حسین کا مقدمہ لڑنے پر پاکستان بار کونسل اور دیگر باڈیز سے عاصمہ جہانگیرکی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیایاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور پریس کونسل آف پاکستان کو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم ) الطاف حسین کی تقاریر اور تصاویر کی نشر و اشاعت پر پابندی عائد کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔الطاف حسین کے خلاف درخواستیں ایڈووکیٹ عبداللہ ملک، ایڈووکیٹ آفتاب، ایڈووکیٹ مقصود اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایم کیو ایم قائد نے اپنی تقاریر میں پاک فوج اورریاستی اداروں کے خلاف انتشار آمیز بیان بازی کی، لہذا ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ درج کیا جائے۔واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت مملکت پاکستان سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے اور دستور اور قانون کی اطاعت ہر شہری خواہ وہ کہیں بھی ہو اور ہر اس شخص کی جو فی الوقت پاکستان میں ہو، واجب التعمیل ذمہ داری ہے جبکہ آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی کرنے پر کسی بھی شخص پر آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے الطاف حسین کی تقاریر و تصاویر کی نشرو اشاعت پر پابندی کے فیصلے کو جانبدار اور امتیازی’ قرار دیتے ہوئے ایم کیو ایم نے اس کے خلاف احتجاج کااعلان کیا تھا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…