بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

موسلا دھار بارش نے ملک بھرمیں تباہی پھیر دی،متعددہلاک و زخمی

datetime 22  ستمبر‬‮  2015 |

۔ شاہدرہ ٹاﺅن میں بوسیدہ چھت گرنے سے چار افراد ملبے تلے دب کر زخمی ہو گئے جنہیں امدادی کارکنوں نے ملبے کے نیچے سے نکال کر ہسپتال منتقل کر دیا ۔ نواب ٹاﺅن رائے ونڈ روڈ پر بارش کے باعث زیر تعمیر عمارت کا ایک حصہ گرنے سے پانچ مزدور ملبے تلے دب گئے ۔ اطلاع ملنے پر امدادی تنظیموں کے کارکن موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے انہیں ملبے کے نیچے سے نکال کر ہسپتال منتقل کر دیا ۔ کبیر والا کے علاقہ موہری پور میں بارش کے باعث چھت گرنے سے تین افراد زخمی ہوگئے۔ فیصل آباد میں جڑانوالہ روڈ پر مکان کی چھت گرنے سے دو افراد زخمی ہوگئے۔ شدید بارش کی وجہ سے لیسکو سمیت دیگر ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا جس سے عوام کو بجلی کی طویل بندش کا سامنا کرنا پڑا ۔شدید بارشوں کے باعث ائیر پورٹ کو بجلی سپلائی کرنے والے دونوں فیڈرز ٹرپ کر گئے جس کے بعد آپریشنل نظام کے لئے جنریٹرز چلانا پڑے ۔ شدید بارش کے باعث اندرون اور بیرون ممالک آنے جانے والے پروازوں کا شیڈول بھی بری طرح متاثر ہوا ۔ بارش کے باعث اسلام آباد سے آنے والی پرواز پی کے 653کو واپس روانہ کر دیا گیا جبکہ کوئٹہ سے آنے والی پرواز پی کے 322کو لینڈنگ کی اجازت نہ ملی تاہم موسم کی صورتحال بہتر ہونے پر لینڈنگ کی اجازت دےدی گئی ۔ذرائع کے مطابق شدید بارش کے لیسکو کے 122 فیڈر بھی ٹرپ کر گئے جس کے نتیجے میں متعدد علاقے بجلی سے محروم ہوگئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…