جمعرات‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2026 

مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمد کیلئے راستہ ہموار

datetime 22  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اہم اور مثبت پیشرفت میں بعض مشکل مسائل بالاآخر حل ہوگئے اور قطر کے ساتھ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمد کیلئے راستہ ہموار ہوگیا۔جنگ رپورٹر خالد مصطفی کے مطابق سوئی ناردرن گیس کی نئی انتظامیہ نے آر ایل این جی سے چلنے والے 3600 میگاواٹ کے تین پاور پلانٹس کے ساتھ گیس سیلز ایگریمنٹ (GSA) اور سینٹرل پاور پرچیز ایگریمنٹ (سی پی پی اے) کے ساتھ ری ایمبرسمینٹ ایگریمنٹ پر دستخط کر دیئے۔ وزارت تیل و قدرتی وسائل کے سینئر افسر نے یہ بات بتائی، نواز حکومت ان تین پاور پلانٹس کی تیزی سے تعمیر چاہتی ہے تا کہ 2017ءتک بجلی کی پیداوار شروع کر دیں، منصوبے کے تحت وفاقی حکومت آر ایل این جی سے چلنے والے دو کمبائنڈ سائیکل پاور پلانٹس قائم کرے گی ایک بلوکی ضلع قصور دوسرا ضلع جھنگ میں لگے گا، تیسرا حکومت پنجاب بھکی میں نصب کرے گی، قبل ازیں سوئی ناردرن کی نئی منیجنگ ڈائریکٹر عظمیٰ عادل خان نے پی ایس او، سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کے درمیان سہ فریقی معاہدے اور سی پی پی اے کے ساتھ ری ایمبرسمینٹ معاہدے کے بغیر جی ایس اے پر دستخط سے انکار کر دیا تھا، اب نئی منیجنگ ڈائریکٹر نے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے منظوری کی شرط پر جی ایس اے کا آغاز کیا ہے تاہم گیس فروخت اور ری ایمبرسمینٹ معاہدوں کے تحت اگر سوئی ناردرن مذکورہ تین پلانٹس کو کسی بھی وجہ سے ایل این جی فراہم نہیں کر پاتی تو سی پی پی اے تمام ذمہ داری ا±ٹھائے گی اور ان پلانٹس کوکیپسٹی چارجز ادا کرے گی پھر ایل این جی سپلائی میں ناکامی کے ذمہ دار ادارے پر جرمانہ عائد کرے گی، سب سے اہم پاکستان اسٹیٹ آئل، سوئی سدرن گیس کمپنی، سوئی ناردرن گیس کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹرز نے ایل این جی کی فراہمی چین میں رسک شیئرنگ اور ذمہ داریوں کے حوالے سے سہ فریقی معاہدے پر دستخط کر دیئے جو طویل عرصے سے تعطل کا شکار تھا۔دریں اثناءآزاد ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کے شعبہ میں ختم نہ ہونے والے گردشی قرضے کے حوالے سے بھاری مالی بحران کا شکار سی پی پی اے جیسا ادارہ ذمہ داریوں کا بوجھ کیسے ا±ٹھا سکتا ہے۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…