بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

نواز،شہباز شریف اہل خاندان‘ پارٹنرز کی احتساب عدالت سے بریت سپریم کورٹ میں چیلنج

datetime 21  ستمبر‬‮  2015 |

درمیان قرضوں کا کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مدعاعلیہ طارق تاج ایگزیٹو نائب صدر‘ نیشنل بنک آف پاکستان لاہور نے مورخہ 10-12-2014 کو Letter No. NBP/SAMD.N/LHR/80/2014 Dated: 10-12-2014 کو لیٹر جاری کیا اس لیٹر سے ظاہر ہوتا ہے مدعلیہان نواز شریف اورشہباز شریف نے نیشنل بنک آف پاکستان کا قرضہ بمعہ مارک اپ 10-12-2014 up to date کو ادا کیا۔ میاں نواز شریف اور شہباز شریف اور دونوں بھائیوں کی فیملی کے خلاف نیب عدالت ڈسٹرکٹ راولپنڈی ریفرنس ادارہ نیب کی طرف سے زیر التواء تھا‘ اس ریفرنس کا مدعاعلیہا معزز جج سہیل ناصر ادارہ نیب راولپنڈی کی طرف سے مورخہ 28-05-2015 کو بری ہونے کا فیصلہ جاری کیا۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ اتفاق فاؤنڈری ریفرنس دوبارہ کھولنے کی استدعا مسترد کر دی گئی نواز شریف‘ شہباز شریف سمیت شریف خاندان کے 9 افراد باعزت بری‘ بھائی عباس شریف‘ والد میاں شریف‘ والدہ شمیم اختر‘ خاتون اول کلثوم نواز اور اتفاق فاؤنڈری کے 2 ڈائریکٹرز بھی بری‘ ریفرنس جھوٹ پر مبنی اور سیاسی انتقام شریف خاندان اور نیشنل بنک کے درمیان قرضوں کا کوئی تنازعہ نہیں۔ احتساب عدالت کا فیصلہ‘ معزز احتساب عدالت ڈسسٹرکٹ راولپنڈی کا مورخہ 1-05-2015 کا مزکورہ اشخاص اور وقت کے حاکموں کو اتفاق فاؤنڈری کیس میں بری کرنے کا جاری کیا گیا اور الیکٹرونک میڈیا میں مورخہ 19-05-2015 کو 18 کروڑ عوام نے دیکھا اور سنا اور مورخہ 20-05-2015 کو پرنٹ میڈیا میں شائع ہوا جس کو 18 کروڑ عوام نے پڑھا اور دیکھا جو کہ معزز عدالت کے علم میں بھی ہے کہ ایسا ہوا ہے مورخہ 19-05-2015 کو میاں محمد نواز شریف وزیراعظم پاکستان اور میاں شہباز شریف وزیراعلیٰ حکومت پنجاب اور ان کے بھائی عباس شریف اور والد میاں شریف والدہ شمیم اختر والدہ میاں محمد نواز شریف وزیراعظم پاکستان اور کلثوم نواز زوجہ وزیراعظم پاکستان اور ان کے دو پارٹنرز مختار حسن ڈائریکٹر اتفاق فاؤنڈری اور کمال قریشی ڈائریکٹر اتفاق فاؤنڈری معزز عدالت احتساب ڈسٹرکٹ راولپنڈی کے 19-05-2015 کے فیصلے کے خلاف مدعلیہا چیئرمین ادارہ نیب نے عدالت احتساب ڈسٹرکٹ راولپنڈی کے فیصلے کے خلاف آج تک یعنی 19-09-2015 تک عدالت عظمیٰ پاکستان نے معزز عدالت احتساب ڈسٹرکٹ راولپنڈی کے 19-05-2015ء کے فیصلے کے خلاف آج تک اپیل دائر نہیں کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…