اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

نواز،شہباز شریف اہل خاندان‘ پارٹنرز کی احتساب عدالت سے بریت سپریم کورٹ میں چیلنج

datetime 21  ستمبر‬‮  2015 |

درمیان قرضوں کا کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مدعاعلیہ طارق تاج ایگزیٹو نائب صدر‘ نیشنل بنک آف پاکستان لاہور نے مورخہ 10-12-2014 کو Letter No. NBP/SAMD.N/LHR/80/2014 Dated: 10-12-2014 کو لیٹر جاری کیا اس لیٹر سے ظاہر ہوتا ہے مدعلیہان نواز شریف اورشہباز شریف نے نیشنل بنک آف پاکستان کا قرضہ بمعہ مارک اپ 10-12-2014 up to date کو ادا کیا۔ میاں نواز شریف اور شہباز شریف اور دونوں بھائیوں کی فیملی کے خلاف نیب عدالت ڈسٹرکٹ راولپنڈی ریفرنس ادارہ نیب کی طرف سے زیر التواء تھا‘ اس ریفرنس کا مدعاعلیہا معزز جج سہیل ناصر ادارہ نیب راولپنڈی کی طرف سے مورخہ 28-05-2015 کو بری ہونے کا فیصلہ جاری کیا۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ اتفاق فاؤنڈری ریفرنس دوبارہ کھولنے کی استدعا مسترد کر دی گئی نواز شریف‘ شہباز شریف سمیت شریف خاندان کے 9 افراد باعزت بری‘ بھائی عباس شریف‘ والد میاں شریف‘ والدہ شمیم اختر‘ خاتون اول کلثوم نواز اور اتفاق فاؤنڈری کے 2 ڈائریکٹرز بھی بری‘ ریفرنس جھوٹ پر مبنی اور سیاسی انتقام شریف خاندان اور نیشنل بنک کے درمیان قرضوں کا کوئی تنازعہ نہیں۔ احتساب عدالت کا فیصلہ‘ معزز احتساب عدالت ڈسسٹرکٹ راولپنڈی کا مورخہ 1-05-2015 کا مزکورہ اشخاص اور وقت کے حاکموں کو اتفاق فاؤنڈری کیس میں بری کرنے کا جاری کیا گیا اور الیکٹرونک میڈیا میں مورخہ 19-05-2015 کو 18 کروڑ عوام نے دیکھا اور سنا اور مورخہ 20-05-2015 کو پرنٹ میڈیا میں شائع ہوا جس کو 18 کروڑ عوام نے پڑھا اور دیکھا جو کہ معزز عدالت کے علم میں بھی ہے کہ ایسا ہوا ہے مورخہ 19-05-2015 کو میاں محمد نواز شریف وزیراعظم پاکستان اور میاں شہباز شریف وزیراعلیٰ حکومت پنجاب اور ان کے بھائی عباس شریف اور والد میاں شریف والدہ شمیم اختر والدہ میاں محمد نواز شریف وزیراعظم پاکستان اور کلثوم نواز زوجہ وزیراعظم پاکستان اور ان کے دو پارٹنرز مختار حسن ڈائریکٹر اتفاق فاؤنڈری اور کمال قریشی ڈائریکٹر اتفاق فاؤنڈری معزز عدالت احتساب ڈسٹرکٹ راولپنڈی کے 19-05-2015 کے فیصلے کے خلاف مدعلیہا چیئرمین ادارہ نیب نے عدالت احتساب ڈسٹرکٹ راولپنڈی کے فیصلے کے خلاف آج تک یعنی 19-09-2015 تک عدالت عظمیٰ پاکستان نے معزز عدالت احتساب ڈسٹرکٹ راولپنڈی کے 19-05-2015ء کے فیصلے کے خلاف آج تک اپیل دائر نہیں کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…