جمعرات‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2026 

سندھ پولیس کے ہزاروںافسران و اہلکاربھتہ خوری،قبضہ مافیا،ایرانی تیل کی فروخت اور غیرملکیوں کو شناختی کارڈ دینے جیسے جرائم میں ملوث ہونے کاانکشاف

datetime 21  ستمبر‬‮  2015 |

اور بتایا کہ جرائم میں ملوث 1400پولیس افسرواہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق پولیس کا بھتہ خوری ،زمینوں پر قبضے اور دیگر جرائم میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا یہ افسران لیاری گنگ وار اور ایم کیوایم کے جرائم پیشہ افراد کی مدد کی پولیس اہلکار و افسران ایرانی تیل کی فروخت میں ملوث ہیں ، غیرملکیوں کے لئے جعلی شناختی کارڈ بنانے والوں کی بھی مدد کرتے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق اے ایس آئی اختر جلال کو ایک سال کی ملازمت ضبطگی کی سزا سنائی اختر جلا ل پر بھتہ خوری اور ایم کیوایم کے جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کاالزام ہے رپورٹ کے مطابق سب انسپکٹر شبیر لودھی کی دوسال کی ملازمت ضبطگی کی سزا دی گئی شبیر لودھی کنٹینروں کو بغیر چیکنگ کے کیماڑی میں داخل کراتا تھا اور فی کنٹینر کے سو روپے وصول کرتا تھا اے ایس آئی محمد دین کی دوسال کی ملازمت ضبطگی کی گئی محمد دین پر گینگ وار کے ملزما ںکی سرپرستی کاالزام تھا عدالت نے رپورٹ کی اسکروٹنی کے لیئے تین رکنی کمیٹی بنانے کا حکم دیا جس پر ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے ایڈیشنل آئی جی اے ڈی خواجہ ،ڈی آئی جی سلطان خواجہ اور ڈی آئی جی ثنااللہ عباسی کے نام عدالت میں پیش کیئے جس پر عدالت نے تینوں افسران اور آئی جی سندھ کو (آج)منگل کے روز عدالت میں طلب کرلیا



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…