بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

پاور سیکٹر میں 980 ارب روپے کی بے قاعدگیاں

datetime 21  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) آڈیٹرجنرل آف پاکستان نے 2014-2013 کی آڈٹ رپورٹ میں وزارت پانی وبجلی کے زیر انتظام چلنے والے ادارے واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) سمیت دیگر پاور کمپنیز کے اکاو¿نٹس میں 980 ارب روپے کے غبن اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے صدر سے سفارش کی ہے کہ وہ ان تمام گھپلوں کی تحقیقات کرانے کاحکم دیں۔آڈیٹرجنرل کا کہنا ہے کہ یہ رقم 4 کھرب روپے کے وفاقی بجٹ برائے 2016-2015 کے ایک چوتھائی کے برابر ہے۔آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں گزشتہ چند سالوں کے دوران 4 کھرب 2 ارب روپے کا آڈٹ نہ ہونے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے.صدرمملکت کو بھیجی گئی رپورٹ کے مطابق یہ گھپلے اور بے ضابطگیاں واپڈا کے علاوہ بجلی پیدا کرنے والی 4 کمپنیوں، بجلی کی تقسیم کار 10 کمپنیوں اورنیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) میں کیے گئے.رپورٹ کے مطابق واپڈا میں 3 کھرب 68 ارب روپے سے زائد کی بے قاعدگیوں، بلاضرورت ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کے ایک 184 کیسز سامنے آئے، جبکہ 88 دیگر کیسز عدم وصولی اور زائد ادائیگیوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن کی مالیت 5 کھرب 72 ارب روپے سے زائد ہے.رپورٹ کے مطابق 18 کیسز حادثات اورغفلت کے ہیں جن کا تخمیہ ساڑھے 19 ارب روپے ہے۔آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں صدر مملکت ممنون حسین سے سفارش کی ہے کہ وہ ان گھپلوں کی تحقیقات کاحکم دیں۔آڈیٹرز نے تجویز کیا ہے کہ حکومت واپڈا پر ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی مقررہ مدت میں تکمیل پر زور دے، جبکہ وزرات پانی و بجلی کے ماتحت اداروں میں، بجلی کے بوجھ اور چوری کی غیر قانونی توسیع کو روکنے اور تحقیقات کو بہتر بنانے کے لیے اندرونی معاملات کو کنٹرول کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…