۔اقبالی بیان میں بتایا گیا کہ ’’ سولر سسٹم پراجیکٹ ( کرائے کی بنیاد پر) ۔ گوہر اورراٹھور اس پراجیکٹ پرما مور تھے۔دوسال میں اس پراجیکٹ کے 15مرتبہ ٹینڈر ہوئے کمپنیوں کی طرف سے کم بولیوں کی پیشکشوں پر غور بھی کہا گیا ۔ ایک کمپنی آخر میں آئی جس کی منظوری ابھی ہونا باقی ہے۔ تاحال فائل بھی منظوری کےعمل میں ہے۔ہارڈویئر کے مطابق 62 مقامات کیلئے مکمل سولر پینل سسٹم درکار تھے۔ میٹنگ کے منٹس محفوظ نہیں کئے گئے ۔ راٹھور صاحب اور قیصر صاحب منٹس جاری کرنے کے ذمہ دار تھے لیکن انہوں نے یہ عمل چھٹی بڈمیٹنگ کے بعد شروع کیا۔ ٹینڈر کے حوالے سے کمپنیوں کی جانب سے اعتراضات کئے گئے کہ یہ بہت مخصوص نوعیت کےاور ایک مخصوص کمپنی کے حق میں تھے۔ اس میں مزید انکشاف کیا گیا کہ سندھ آرم لائسنس پراجیکٹ میں ایک خاص کمپنی کو فائدہ پہنچایا گیا۔ بیان کے مطابق ’’(ڈائریکٹر پراجیکٹس) فیصل جمشید، (ڈپٹی ڈائریکٹر پراجیکٹس) خضر مصباح نے معاہدے کو حتمی شکل دی اورنمونوں کی منظوری دی ( ہر کمپنی نے 10 سیمپلز دئیے) صرف ایک کمپنی مطلوبہ مقدار میں نمونے فراہم کرسکی اور اسی بنا پر اسے کام دیدیا گیا۔ آدھی ڈیلیوری ہونے پر نصف ادائیگی ہوگئی۔ فیصل جمشید نے اقبال کو کہا کہ ایکس میگا پلس (اسلام آباد) کمپنی کو ٹھیکہ ملنا چاہئے۔ درکار ہارڈویئرمیں 37 سائٹس کیلئے 200 کمپیوٹرز ،سرورز ، ڈیٹا انٹری کیلئے لیپ ٹاپس شامل تھے۔تمام امور سی ڈی سی پی کی ایف سکس میں واقع عمارت میں انجام پائےکیونکہ پرائم منسٹرآفس کے تمام افراد وہیں تھے اس لئے یہ سہل تھا‘‘۔ اسی طرح بیان میں کہا گیا ’’ پنجاب آرمز لائسنس کیلئے ہارڈ ویئر ،کمپیوٹرز،کرورز،پرنٹرزاوردیگرسندھ آرمزلائسنس جتنا تھا۔ مختار ڈیلر اور 3 سال کی سپورٹ وارنٹی بھی لازمی تھی ۔ میگا پلس کو ٹھیکہ دیدیا گیا۔ تمام سامان فراہم کردیا گیااور بعض ادائیگیاں ابھی باقی ہیں۔ فیصل جمشید، شمس الاسلام ( ڈپٹی ڈائریکٹر ہارڈوئیر)معاملات طےکررہے تھے۔ میگا پلس کی جانب سے عبدالصمد معاملات انجام دےرہے تھے‘‘۔ بیان میں بتایا گیا کہ 3 سال قبل پرانم منسٹر آفس کو ڈیٹا انٹری سکیننگ کیلئے 4/6 سکینرز درکار تھے۔ دو کمپنیوں / سکینرز کی سفارش کی گئی۔ ’’ ایک کو اس بنا پر مسترد کردیا گیا کہ انہیں ایک مخصوص سکینر درکار تھا ( اگرچہ اسکی قیمت زیادہ تھی)۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ یہ سکینر سافٹ ویئر سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ یہ تمام سکینرز ایچ کیو میں تھے۔ اگرکوئی کسی فروخت کار کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہو تو وہ مخصوص چیز پر اصرار کرتا ہے تاکہ کوئی دوسرا اس کا مقابلہ نہ کرسکے۔ اکثر کمپنیاں ٹیکنیکل بنیادوں پر مسترد ہو جاتی ہیں۔
نادرانےبڑےکرپشن کیسزمیں ملازمین کوبرطرف کرنیکی سنچری مکمل کرلی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
امانت خان شیرازی
-
ایران کا ابوظبی پر حملہ،یو اے ای نے بھی بڑا اعلان کر دیا
-
ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں پر چین کا ردعمل بھی آگیا
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر حیران کن اضافہ
-
امریکا و اسرائیل کے حملے کے بعد ایرانی صدر کا پہلا بیان سامنے آگیا
-
پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا
-
ایرانی میڈیا نے آیت اللہ خامنہ ای کا آخری پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کردیا
-
خامنہ ای سے ملاقات کیلئے لوگوں کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر لے جایا جاتا تھا، بڑا دعویٰ
-
پاکستانی سفارتخانے نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہریوں کے لیے اہم ہدایات جاری دیں
-
ایران کا اسرائیل پر مہلک حملہ، کئی افراد ہلاک
-
ایران، اسرائیل امریکا جنگ،بابا وانگا کی خطرناک پیشگوئی
-
آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکی و اسرائیلی حملے میں شہادت پرروسی صدر پیوٹن کا بھی ردعمل بھی آگیا
-
پاکستان کے ایک سے زائد نیوز چینلز کی نشریات ہیک
-
ایران کا دبئی پر حملہ ،پاکستانی شہری جاںبحق



















































