بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم کا نجی اسکولوں کی فیسوں میں اضافے پر اظہار برہمی

datetime 16  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس تھا تو 341 ارب روپے کے کسان ریلیف پیکج کی منظوری کے لئے لیکن وزیراعظم نے اجلاس میں وفاقی وزراءاور وزراءمملکت کو اس وقت چونکا دیاجب انہوں نے پرائیویٹ اسکولز کی فیسوں میں ہوشربا اضافے اور والدین کے احتجاج کا معاملہ اٹھایا دیا اور سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ادارے ٹھیک کام کریں تواحتجاج کی نوبت ہی نہ آئے‘فیسیں بڑھانازیادتی ہے‘ جنگ رپورٹر آصف علی بھٹی کے مطابق محکمہ تعلیم اور کیڈنے تاحال ایکشن کیوں نہیں لیا؟میاں نوازشریف نے پرائیوٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کی فوری بحالی کاحکم دیتے معاملہ فوری حل کرنے کی ہدایت کی‘وفاقی کابینہ کےاجلاس کی اندرونی کہانی بتاتے ہوئے ذرائع نے انکشاف کیاکہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے نجی اسکولوں کی جانب سے فیسوں میںاندھادھنداضافے پر وزیرمملکت تعلیم اور وزیرمملکت کیڈکی بھی خوب کلاس لی‘میاں نوازشریف نے اس موقع پر کہاکہ ملک میں معیار تعلیم کا پہلے ہی برا حال ہے،اوپر سے عوام پر فیسوں کا بوجھ،یہ کیا ہورہاہے؟ وزارت تعلیم اور کیڈ نے اب تک نوٹس لے کر ایکشن کیوں نہیں لیا، وزیراعظم نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ نظام کی بہتری کے لئے دن رات ایک کررہے ہیں لیکن کچھ لوگ صیح کام نہیں کررہے،وزیراعظم نےپرائیوٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کو فوری بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ کا تقرر کرکےپرائیویٹ اسکولز کے نظام کو اسٹریم لائن کیا جائے ‘ انہوں نے کہاکہ پرائیوٹ اسکولز کو والدین کی مشکلات کا بھی احساس کرنا چاہئے،میاں نوازشریف کو بتایاگیاکہ پرائیویٹ اسکولز نے سالانہ فیس کی مد میں 25 سے 40 جبکہ ماہانہ فیس میں 20 سے 40 فی صد اضافہ کیا، وزیراعظم نے کہاکہ پرائیویٹ اسکولز کا فیسوں میں اضافہ زیادتی ہے اس کا فوری حل نکالاجائے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…