بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سندھ میں 2010ءسے الاٹ کی جانےوالی زمینوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے پر غور

datetime 16  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سندھ بورڈ آف ریونیو نے بورڈ یا ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے کالونائزیشن آف گورنمنٹ لینڈ ایکٹ 1912ئ کے تحت صوبے میں 2010ءسے الاٹ کی جانے والی زمینوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرانے کیلئے کوششیں شروع کر دی ہیں۔ باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ اس ضمن میں وزیراعلیٰ سندھ سے الاٹمنٹ منسوخ کرنے کی منظوری لی جا رہی ہے تاکہ با اثر اور من پسند افراد کو اس عرصہ کے دوران بانٹی گئی ہزاروں ایکڑ قیمتی سرکاری زمین واپس لی جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی بورڈ آف ریونیو نے اپنی نگران کمیٹی (اوورسی کمیٹی) کو تحلیل کرنے کی بھی سفارش کی ہے، یہ کمیٹی 2010ءمیں بورڈ آف ریونیو کے سینئر رکن کی سربراہی میں قائم کی گئی تھی جس کا کام زمین کے تبادلے کے نام پر الاٹمنٹ کے کیسوں کو منظور کرنا تھا۔ جنگ رپورٹر انصار عباسی کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کو بورڈ آف ریونیو کے حکام نے بتایا ہے کہ ان الاٹمنٹس میں زبردست کرپشن ہوئی ہے، اور اب اربوں روپے مالیت کی سرکاری زمین واپس لینے اور الاٹمنٹس منسوخ کرنا ضروری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان تمام برسوں کے دوران، کالونائزیشن ا?ف گورنمنٹ لینڈ ایکٹ 1912ءکے سیکشن 17 کا بھرپور غلط استعمال کیا گیا تاکہ ایس ایم بی آر کی نگران کمیٹی اور ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے صوبے کے تقریباً تمام اضلاع میں با اثر افراد کو زمینیں الاٹ کی جا سکیں۔ کالونائزیشن آف گورنمنٹ لینڈ ایکٹ 1912 ءکا سیکشن 17 ڈپٹی کمشنر کو اس بات کا اختیار دیتا ہے کہ وہ پٹہ دار (ٹیننٹ) کی درخواست پر زمین کا تبادلہ کر سکتا ہے۔ لیکن، با اثر اور من پسند افراد کو فائدہ پہنچانے کیلئے حکومت کی اربوں روپے مالیت کی لاکھوں ایکڑ زمین 2010ءسے الاٹ کی جاتی رہی۔ چونکہ کئی کیسوں میں ڈپٹی کمشنرز نے صوبائی بورڈ آف ریونیو یا پھر نگران کمیٹی کو معاملات میں شامل کرنے کی زحمت تک نہ کی، اس بات کا کوئی حساب ہی نہیں کہ زمینوں کا رقبہ کتنا تھا۔ لیکن، ذرائع کا اصرار ہے کہ یہ اربوں روپے کی لاکھوں ایکڑ زمین کا معاملہ ہے۔ وزیراعلیٰ آفس کے ذرائع کے مطابق، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے نیا ملیر کو کی جانے والی 2500 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے سیکریٹری لینڈ یوٹیلائیزیشن کے مطالبے کی توثیق کی ہے۔ سیکریٹری لینڈ یوٹیلائزیشن نے وزیراعلیٰ سندھ کو 13 سمریاں ارسال کی تھیں کہ نیا ملیر کی الاٹمنٹس منسوخ کی جائیں۔ رینجرز، ایف آئی اے اور نیب کی سندھ میں کرپشن کے خلاف حالیہ مہم کے دوران، ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ ہر غلط کام کو صوبے اور اس کے عوام کے وسیع تر مفاد میں درست کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ دوبارہ فعال ہونے والے نیب کی جانب سے سندھ حکومت کو واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ کرپشن کے معاملے میں عدم برداشت سے کام لیا جائے گا اور لہٰذا یہ صوبائی حکام کے مفاد میں ہوگا کہ وہ غیر قانونی اور متنازع الاٹمنٹس منسوخ کر دیں۔ نیب سندھ نے بھی واضح کر دیا ہے کہ ان زمینوں کی الاٹمنٹس منسوخ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ اس میں ملوث ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…