بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

ن لیگ کو سندھ میں آخرکارجھٹکالگ ہی گیا

datetime 14  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)ن لیگ کو سندھ میں440ووٹ کا جھٹکا،مسلم لیگ(ن) کے باغی رہنمااور سابق وزیرسندھ سردار ممتاز علی خان بھٹو نے بلدیاتی انتخابات علیحدہ اور آزاد حیثیت سے لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں ہم نے چند نکات اور وعدوں پر اپنی پارٹی نیشنل فرنٹ ضم کرائی تھی،وہ وعدے پورے نہیں کیئے گئے،بلدیاتی انتخابات کے بعد اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے،اس ضمن میں سابق سندھ نیشنل فرنٹ کے عہدیداران نے مجھے فیصلے کا اختیار دے دیا ہے۔وہ اتوار کو مقامی ہوٹل میں سندھ نیشنل فرنٹ کے سابق عہدیداران کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے،اس موقع پر ان کی جماعت کے مرکزی رہنماءاللہ واریو سومرو ،حسن محمود شاہ امروٹی،ایوب شر ،محمد انورگجر ،عبدالرزاق باجوہ،محبوب مگسی،ڈاکٹر روشن پیچوہو ودیگر بھی موجود تھے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ممتازبھٹو نے کہا کہ ہم نے ڈھائی سال تک نوازشریف کی جانب سے کیئے گئے وعدوں پر اعتماد کیا اور انتظار کیا کہ جن نکات پرنوازشریف نے ہم سے معاہدہ کیا تھا ،اس پر عملدرآمد ہوگا،لیکن ہمارا تجربہ تلخ رہا،نوازشریف نے مالیاتی کمیشن سمیت کسی بھی نکات پر عملدرآمد نہ کیا اور سندھ کے ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ جاری رکھا،انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،لیکن اس پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا،میرے فرزند امیر بخش بھٹو کو وفاقی مشیر تو ضرور بنایا گیا،لیکن انہیں کوئی قلمدان نہیں سونپا گیا،ایک سوال پر ممتاز علی خان بھٹو نے کہا کہ یہ بات درست نہیں کہ نوازشریف نے مجھے ملک کا صدر نہیں بنایا تو میں ان کی مخالفت کررہا ہوں،بلکہ میں نے نوازشریف کے دو مرتبہ پوچھنے کے باوجود کسی عہدے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا،جبکہ نوازشریف نے معاہدے کے وقت یہ بات کہی تھی کہ سندھ نیشنل فرنٹ (ن) لیگ میں ضم نہیں ہورہی،بلکہ (ن) لیگ نیشنل فرنٹ میں ضم ہورہی ہے اور میرے لیڈر آپ ممتاز علی بھٹو ہیں،انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف میں شامل ہونے کا ہم ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا اور جو کچھ بھی ہمارا اقدام ہوگا وہ ساتھیوں کے مشورے سے قدم اٹھائیں گے،انہوں نے کہا کہ ہم (ن)لیگ میں مال بنانے یا مفادات حاصل کرنے کے لئیے نہیں شامل ہوئے تھے ،بلکہ ہمارا مقصد صوبے کی عوام کی خدمت تھا اور رہے گا،تاہم جب ہم نے دیکھا کہ عوام کے مسائل حل نہیں ہورہے اور عوام کا مفاہمت کے نام پر وقت ضائع کیا جارہا ہے تو ہم نے اپنی سوچ تبدیل کرلی ہے،انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ جب معاہدہ ہوا تو معاہدءمیں (ن)لیگ کی طرف سے ممنون حسین بھی شامل تھے،لیکن ان کو بھی وہ وعدے یاد نہیں رہے،ممتاز علی بھٹو نے کہا کہ ہم نظریاتی لوگ ہیں اور ہمیشہ اصولی سیاست کی ہے،لہذا جب ہم نے دیکھا کہ عوام کے مسائل حل نہیں کئیے جارہے اور ہمارے ساتھ کئیے گئے وعدوں کے پاسداری نہیں ہورہی تو ہم نے ساتھیوں سے رجوع کیا،انہوں نے کہا کہ ہم نے (ن)لیگ نہیں چھوڑی،بلکہ ہمیں (ن) لیگ سے نکالا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ نے پیپلزپارٹی کو خوف زدہ کرنے کے لئیے ہمیں استعمال کیا اور وقت گزرنے کے بعد سارے وعدوں اور معاہدوں کو بھلادیا۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…