بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سوئی سدرن کے گرفتار افسران کو قصوروار نہیں کہا جا سکتا، ایم ڈی

datetime 4  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)سوئی سدرن گیس کمپنی کے ایم ڈی خالد رحمن نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے تحویل میں لیے گئے سوئی سدرن کے 3 سینئر آفیسر کے بارے میں انکوائریز کی جارہی ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ چونکہ ابھی معاملے کی تحقیقات ہورہی ہے اس لیے ابھی اس کی تفصیلات میں جانا مناسب نہیں ہے کیونکہ الزام ثابت ہونے تک ان کو قصور وار نہیں کہا جاسکتا۔ایس ایس جی سی سے جاری اعلامیے کے مطابق انہوں نے یہ بات قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم اور قدرتی وسائل کو دی گئی بریفنگ میں کہی۔ ایم ڈی نے کمیٹی ممبران کو بتایا کہ یہ سینئر آفیسرز انتہائی قابل اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں اور ان کا کمپنی کے مفاد میں کام کرنے کا طویل ریکارڈ موجود ہے۔ڈی ایم ڈی / سی او او شعیب وارثی گزشتہ 37 سال سے سوئی سدرن سے منسلک ہیں اور مختلف حیثیتوں میں کام کرنے کا اچھا ریکارڈ رکھتے ہیں جبکہ محمد امین راجپوت سی ایف او نے تقریباً 3 سال قبل کمپنی میں بطور چیف انٹرنل آڈیٹر شمولیت اختیار کی اور صرف 3 ماہ پہلے ہی سی ایف او کا چارج سنبھالا ہے۔ایم ڈی نے بتایا کہ جی ایم (پی اینڈسی) کامران ناگی نے بھی تقریباً 3 سال قبل سوئی سدرن کو جوائن کیا، اس سے پہلے وہ شیل میں طویل عرصے سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ خالد رحمن نے کہا کہ چونکہ انہوں نے حال ہی میں سوئی سدرن کے ایم ڈی کا عہدہ سنبھالا ہے اس لیے ابھی وہ کمپنی کے بہت سے معاملات کے متعلق پوری طرح آگاہ نہیں لیکن جہاں تک تحویل میں لیے جانے والے سینئر افسران کا تعلق ہے توان کیخلاف انہیں کبھی کوئی شکایت نہیں ملی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…