اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

سوئی سدرن کے گرفتار افسران کو قصوروار نہیں کہا جا سکتا، ایم ڈی

datetime 4  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)سوئی سدرن گیس کمپنی کے ایم ڈی خالد رحمن نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے تحویل میں لیے گئے سوئی سدرن کے 3 سینئر آفیسر کے بارے میں انکوائریز کی جارہی ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ چونکہ ابھی معاملے کی تحقیقات ہورہی ہے اس لیے ابھی اس کی تفصیلات میں جانا مناسب نہیں ہے کیونکہ الزام ثابت ہونے تک ان کو قصور وار نہیں کہا جاسکتا۔ایس ایس جی سی سے جاری اعلامیے کے مطابق انہوں نے یہ بات قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم اور قدرتی وسائل کو دی گئی بریفنگ میں کہی۔ ایم ڈی نے کمیٹی ممبران کو بتایا کہ یہ سینئر آفیسرز انتہائی قابل اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں اور ان کا کمپنی کے مفاد میں کام کرنے کا طویل ریکارڈ موجود ہے۔ڈی ایم ڈی / سی او او شعیب وارثی گزشتہ 37 سال سے سوئی سدرن سے منسلک ہیں اور مختلف حیثیتوں میں کام کرنے کا اچھا ریکارڈ رکھتے ہیں جبکہ محمد امین راجپوت سی ایف او نے تقریباً 3 سال قبل کمپنی میں بطور چیف انٹرنل آڈیٹر شمولیت اختیار کی اور صرف 3 ماہ پہلے ہی سی ایف او کا چارج سنبھالا ہے۔ایم ڈی نے بتایا کہ جی ایم (پی اینڈسی) کامران ناگی نے بھی تقریباً 3 سال قبل سوئی سدرن کو جوائن کیا، اس سے پہلے وہ شیل میں طویل عرصے سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ خالد رحمن نے کہا کہ چونکہ انہوں نے حال ہی میں سوئی سدرن کے ایم ڈی کا عہدہ سنبھالا ہے اس لیے ابھی وہ کمپنی کے بہت سے معاملات کے متعلق پوری طرح آگاہ نہیں لیکن جہاں تک تحویل میں لیے جانے والے سینئر افسران کا تعلق ہے توان کیخلاف انہیں کبھی کوئی شکایت نہیں ملی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…