اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور ہائی کورٹ نے صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں بچوں سے جنسی زیادتی کے معاملے کے ملزم تنزیل الرحمان کی عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔عدالتِ عالیہ نے 31 اگست تک کے لیے تنزیل الرحمان کی ضمانت منظور کی ہے۔تنزیل الرحمان ان 15 افراد میں شامل ہیں جن کے خلاف قصور کے گاو¿ں حسین والا میں بچوں سے مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں مقدمات درج ہیں۔اس معاملے میں 13 افراد اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں جبکہ تنزیل نے عبوری ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔تھانہ گنڈا سنگھ پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ مبینہ جنسی زیادتی کیس میں اب تک 18 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ادھر قصور کے گاوں حسین والا میں مقامی افراد نے بچوں سے مبینہ جنسی زیادتی کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کا بائیکاٹ دوسرے دن بھی جاری رکھا ہے۔حسین خان والا کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے بےگناہ افراد کے گھروں میں چھاپے مار کر نہ صرف انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے بلکہ ا±ن کے خلاف جھوٹے مقدمے بھی درج کیے گئے ہیں۔گاوں والوں کے بقول جب تک ان کے خلاف جھوٹے مقدمات کو ختم نہیں کیا جاتا وہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے۔حسین خان والا کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے بےگناہ افراد کے گھروں میں چھاپے مار کر نہ صرف ا±نہیں ہراساں کیا جا رہا ہے بلکہ ان کے خلاف جھوٹے مقدمے بھی درج کیے گئے ہیںمتاثرین کے وکیل لطیف سرا کا کہنا ہے کہ پولیس نے اپنے جائز حقوق کے لیے مظاہرہ کرنے والے 90 معلوم اور چار سو سے زائد نامعلوم افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے ایسے میں گاو¿ں والے جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہو سکتے۔وکیل کا کہنا ہے کہ یہ ایک نامکمل اور ادھوری جے آئی ٹی ہے کیونکہ اس میں فورینزک اور سائبر کرائم کے ماہر کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسی کئی جے آئی ٹی بن چکی ہیں جن کے کوئی نتائج سامنے نہیں آئے اور اب بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پولیس نے بے گناہوں کے خلاف درج مقدمات کو ختم نہ کیا تو گاو¿ں والوں کے پاس اِس کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا ہے کہ وہ سیاسی کارکنوں ، سول سوسائٹی اور گاو¿ں کے رہائشوں کو اکٹھا کر کے لاہور کی طرف ایک لانگ مارچ کریں اور اِس سلسلے میں دینی، سیاسی اور این جی اوز کے ساتھ رابطے شروع کر دیے گئے ہیں۔لطیف سرا نے کہا کہ اگرچہ وہ متاثرین کے وکیل ہیں لیکن جے آئی ٹی انھیں تفتیش سے متعلق آگاہ نہیں کر رہی۔وکیل کا کہنا ہے کہ پولیس کی گاڑیاں گاوں کے چاروں طرف ایسے کھڑی ہیں جیسے یہ ایک غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ہو۔متاثرین کے وکیل کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات پر جب مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی ابوبکر خدا بخش سے ردعمل لینے کی کوشش کی گئی تو بارہا کوشش کے باوجود ان سے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔
قصور میں بچوں سے زیادتی کے ملزم کی ضمانت منظور
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آئل اینڈ سپیس وار
-
اسلام آباد کی مسجد میں حملہ کرنیوالے خودکش بمبار کی شناخت ہوگئی
-
تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش، محکمہ موسمیات کا شہریوں کو الرٹ جاری
-
متنازع مواد دیکھ کر شہریوں نے ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کیں، جو فوراً وائرل ہوگئیں
-
عمران خان پر حملے کے مجرم کو مزید سزا سنادی گئی
-
عام تعطیلات کا اعلان، باضابطہ نوٹیفکیشن جاری
-
سعودی عرب میں پہلاروزہ کب ہوگا، ماہرین فلکیات نے بتا دیا
-
پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 21 ہزار سے زائد کی کمی
-
پاکستان میں پہلا روزہ کب متوقع ہے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی
-
عرب حکمرانوں کی شکار کیلئے پاکستان آمد، مقامی زمینداروں اور انتظامیہ کی اوچھی حرکات سابق آئی جی ذو...
-
اسلام آباد میں خود کش دھماکا، متعدد افراد زخمی، ہلاکتوں کا خدشہ
-
نوشکی،احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ، پل بھی دھماکے سے اڑا دیا گیا
-
متحدہ عرب امارات کا پاکستانیوں کیلئے ورک ویزے سے متعلق بڑا اعلان
-
نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹوں کے اجرا بارے گورنر اسٹیٹ بینک کا اہم اعلان















































