ہفتہ‬‮ ، 01 اگست‬‮ 2026 

میری سیاسی جماعت کو اسٹیبلشمنٹ کی آشیر بادد شامل نہیں ہوگی،افتخار محمد چوہدری

datetime 1  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ میری سیاسی جماعت کو اسٹیبلشمنٹ کی آشیرواد شامل نہیں ہوگی۔ میں نے بطور چیف جسٹس ہمیشہ انصاف پر مبنی فیصلے دیئے۔ بلوچستان کے مسائل کو فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہاں لوگوں میں احساس محرومی کو ختم کرنا ہوگا۔ وہ کراچی میں بلوچستان کے بزرگ سیاسی رہنما سردار عطاء اللہ مینگل سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ ملاقات میں دونوں رہنمائوں نے سیاسی صورت حال اور بلوچستان کے معاملات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ میں نے آئین کے مطابق مسائل کے حل کے لئے سوموٹو ایکشن لئے اور تمام فیصلے قانون اور انصاف کے مطابق کئے۔ میرا ریکارڈ گواہ ہے کہ میرے تمام فیصلے آئینی تھے اور میں نے جو اختیارات استعمال کئے وہ بھی آئین کے مطابق تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ بلوچستان کے لوگوں کی احساس محرومی کو ختم کرنا ہوگا۔ بلوچستان کے مسئلے کو فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک سے کرپشن اور لوٹ مار کا خاتمہ ہونا چاہئے اور ملک میں ایماندار اور انصاف پر مبنی نظام قائم ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جو بھی پارٹی بنائوں گا اسے اسٹیبلشمنٹ کی آشیرواد حاصل نہیں ہوگی۔ میں عوام کی جماعت قائم کروں گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری عمران خان سے ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ عمران خان نے مجھ پر جو الزامات عائد کئے وہ ثابت نہیں کرسکے۔ جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ آگیا ہے جس نے عمران خان کے الزامات کو رد کردیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے سردار عطاء اللہ مینگل سے ملاقات میں درخواست کی ہے کہ وہ ملک کی بھلائی کیلئے اپنا کردار ادا کریں اور دوبارہ فعال ہوجائیں۔ اس موقع پر سردار عطاء اللہ مینگل نے کہا کہ بلوچستان میں قتل عام بند ہونا چاہئے۔ وہاں کے لوگوں کا احساس محرومی ختم کرنا ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جب قتل عام بند ہوجائے گا۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہوجائے گا اور بلوچستان کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق ملنا شروع ہوجائیں گے تو بلوچستان کا مسئلہ خود بخود حل ہوجائے گا۔ حکمران بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ نہیں۔ بلوچستان کے مسئلے کے حل کیلئے ضروری ہے کہ وہاں کی عوام کو سنا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…