جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

بند ٹوٹ گیا،الرٹ جاری

datetime 12  جولائی  2015 |

لاہور/سیالکوٹ( نیوزڈیسک )پنجاب سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون بارشوں کے باعث ڈیموں اور دریاﺅں میں پانی سطح بڑھنا شروع ہوگئی، سیالکوٹ میں بپھرے نالہ ڈیک سے بندٹوٹ گیا جس سے ہزاروں ایکڑفصلیں تباہ ہو گئیں، دریاﺅں اور نالوں کی اطراف کی آبادیوں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ،محکمہ موسمیات نے پنجاب اور خیبر پختونخوا ہ کے زیادہ تر علاقوں کوئٹہ ، سبی ، ژوب ، قلات ، کوئٹہ ، سکھر ، لاڑکانہ ڈویژن اور گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے ۔ ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں سے گرمی کازور ٹوٹ گیا ہے تاہم ڈیموں اور دریاﺅں میں پانی کی سطح بڑھنا شروع ہو گئی ہے جسکے باعث دریاﺅں اور بڑے نالوں کے اطراف میں آبادیوں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے ۔ پسرور میں نالہ ڈیک میں طغیانی سے کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا خفاظتی بند پھر ٹوٹ گیا۔ حفاظتی بند ٹوٹا توپچاس سے زائد دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔ ہزاروں ایکڑ زرعی رقبہ بھی زیر آب آگیا۔فیڈرل فلڈ کمیشن کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں خانکی اور قدیرآباد کے مقام پر نچلے درجے جبکہ دریائے کابل میں ورسک اور نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔دریائے سوات میں بھی چارسدہ روڈ بل کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ہے جبکہ دریائے سندھ، دریائے جہلم، دریائے راوی اور دریائے ستلج عام انداز میں بہہ رہے ہیںلیکن ان میں پانی کی سطح بلند ہونے کا امکان ہے۔تربیلہ اور منگلاڈیموں میں پانی کی سطح 1511 اور 1230.60 فٹ تک پہنچ گئی ہے جبکہ تربیلاکی زیادہ سے زیادہ پانی محفوظ کرنے کی گنجائش 1550 فٹ اور منگلامیں 1242 فٹ ہے۔پاکستان محکمہ موسمیات کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں ہونے والی موسلادھار بارشوں کے باعث نالہ لئی میں طغیانی آ گئی جس کے نتیجے میں کاٹرائن پل پر پانی کی سطح 15.12 فٹ اور گوالمنڈی پل کے قریب پانی کی سطح 15.45 فٹ ہے جو کہ خطرے کے نشان سے 20 فٹ کم ہے۔فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں سب سے زیادہ بارش 78 ملی میٹ تک ریکارڈ ہوئی ہے، بہاولنگر میں 63، بہاولپور میں 49، ساہیوال 37، مری 30، دیر19، اوکاڑہ 18 ہنزہ 15، مانگلا 12، چکوال اور اسکردو 10 ، مالم جبہ 7، سبی 5 جبکہ سرگودھا، ملتان، فیصل آباد، ایبٹ آباد، بنوں، مظفرآباد اور سیدو شریف میں 4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سیالکوٹ میں نالہ ڈیک میں سیلابی صورتحال ہے اور کئی دیہات زیر آ ب آ گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…