اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

جج کی ذوالفقار مرزا کےخلاف مقدمات کی سماعت سے معذوری کااظہار

datetime 7  مئی‬‮  2015 |

حیدرآباد(نیوزڈیسک)انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت بدین کے جج عبدالغفور میمن نے سابق وزیرداخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے خلاف بدین کے مختلف تھانوں میں درج مقدمات کی سماعت سے معذوری کا اظہار کیا ہے اور چیف جسٹس سندھ سے درخواست کی ہے یہ مقدمات کسی اور عدالت میں بھیجے جائیں۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت حیدرآباد جس کے دائرے میں ضلع بدین بھی شامل ہے جس کے جج عبدالغفور میمن نے سابق وزیرداخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے خلاف گذشتہ ہفتے کے دوران بدین کے مختلف اضلاع میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کئے گئے تمام مقدمات کی سماعت سے معذوری کا اظہار کیا ہے اور چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس فیصل عرب کو ایک ریفرنس بھیجا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ وہ ان مقدمات کی سماعت کرنے سے معذور ہیں اس لئے یہ مقدمات کسی اور عدالت میں بھیجے جائیں، چیف جسٹس آفس نے یہ ریفرنس ہائیکوٹ کے ممبر انسپکشن ٹو کو بھیج دیا ہے جہاں اس کا جائزہ لینے کے بعد کسی اور عدالت میں بھیجنے کا فیصلہ کیا جائے گا، فاضل جج نے مقدمات نہ سننے کی کوئی وجہ ریفرنس میں نہیں بتائی ہے۔یاد رہے کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے والد جسٹس ظفر حسین مرزا جب وکیل کی حیثیت سے پریکٹیس کر رہے تھے تو عبدالغفور میمن نے ان کے جونیئر کی حیثیت سے کام کیا تھا۔یاد رہے کہ 4 مئی کو ذوالفقار مرزا نے سندھ ہائیکورٹ سے 6 مئی تک کے لئے حفاظتی ضمانت حاصل کی تھی لیکن اس دوران بڑے پیمانے پر پولیس کی نفری درجنوں بکتربند گاڑیوں اور پولیس موبائلوں کے ساتھ مرزا فارم ہا?س بدین پر تعینات کرکے ان کا گھر سے نکلنا ناممکن بنا دیا گیا تھا جس پر 6 مئی کو ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے وکلائ نے سندھ ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی جو مسٹر جسٹس شوکت میمن اور مسٹر جسٹس نعمت اللہ پر مشتمل ڈویڑن بینچ کے سامنے پیش کی گئی تھی مگر جسٹس شوکت میمن نے بعض وجوہ کی بنا پر یہ درخواست سننے سے معذوری کا اظہار کر دیا تھا

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…