منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کی سیاست شرم و حیا سے عاری ہے،مولانا فضل الرحمان

datetime 1  مئی‬‮  2015 |

ملتان(نیوزڈیسک)جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا تقاضا یہی ہے کہ ہم کسی شرائط کے بغیر اور کسی بھی آزمائش میں سعودی عرب کا ساتھ دیں ، یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین سمیت تمام مقدس مقامات کی حفاظت کیلئے دنیا کا ہر مسلمان جان ومال دینے کو تیار ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز سعودی عرب میں کی گئی وزراءکی برطرفیاں اور تبدیلیاں سعودی عرب کا داخلی معاملہ ہے انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت چونتیس مستعفی لوگ ایوان میں جا کر بیٹھے ہیں وہ ہمارے اور ایوان کیلئے اجنبی ہیں جبکہ دوسری طرف دھاندلی کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جوڈیشل کمیشن کا بننا پاکستان بار کونسل کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے اور پاکستان بار کونسل نے کہا ہے کہ یہ آئین سے متصادم ہے انہوں نے کہا کہ آئین میں الیکشن ٹربیونل کا وجود ہے جوڈیشل کمیشن کا نہیں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کے پی کے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور نہ ہی عوام کو کے پی کے حکومت سے کوئی توقع ہے عمران خان بارے سوال پر انہوں نے کہا کہ میں شریف آدمی ہوں اور مجھے شریف آدمی رہنے دیں عمران خان کی سیاست شرم و حیا سے عاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں دہشتگردی نہیں ہونی چاہیے اور کراچی میں جے یو آئی واحد جماعت ہے جس کا ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری سے کوئی تعلق نہیں ہے انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کو فرقہ واریت کی طرف دھکیلا جارہا ہے بھارت کا جرم اور جبر کشمیریوں پر جاری ہے اس کے باوجود حریت قیادت اپنے نظریے اور مطالبے پر قائم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سے ہی الحاق کا تصور کشمیریوں کا حتمی نظریہ ہے بھارت کی حکومت مختلف حربوں سے کشمیر کی مخالفت کو تسلیم کرنا چاہتی ہے مولانافضل الرحمان نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے معاہدے پاکستان کی ترقی کیلئے ہیں اور خطے کی اقتصادی ترقی پر بھارت کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے یہ معاہدے بجلی اور اقتصادی ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…