منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

میں کوئی ڈاکٹر نہیں جو اسپتال جاکر مریضوں کا علاج کروں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوامیڈیاپربرس پڑے

datetime 27  اپریل‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک) شہر میں تباہ کن بارشوں سے ہلاکتوں کے بعد بلاخر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا خواب غفلت سے جاگ کر مریضوں کی عیادت کے لیے اسپتال پہنچ گئے تاہم انہوں نے اپنے سر سے تمام ذمہ داریوں کا بوجھ اتارتے ہوئے میڈیا پر سنسنی پھیلانے کا الزام عائد کردیا ہے جب کہ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ وہ کوئی ڈاکٹر نہیں جو اسپتال جاکر مریضوں کا علاج کریں وہ تو صرف حوصلہ افزائی کے لیے اسپتال جاتے ہیں۔پشاورمیں لیڈی ریڈنگ اسپتال کے دورے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا کہ پشاور میں بارشوں کے بعد شہر کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی، ان کے وزرا اور پارٹی کے دیگر لوگ اسپتال میں موجود تھے جب کہ وہ کوئی ڈاکٹر نہیں جو اسپتال پہنچ کر مریضوں کا علاج کریں وہ صرف حوصلہ افزائی کے لیے اسپتال جاتے ہیں۔پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ بارشوں کے نتیجے میں جو گھر تباہ ہوئے ہیں ان کو دوبارہ تعمیر کرائیں گے، میڈیا حادثات پر سنسنی نہ پھیلائے اور تخمینہ بھی خود لگائے کیونکہ ان کے پاس کوئی جادو نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حادثات کے لیے ہمارے پاس کوئی فورس نہیں صرف ریسکیو 1122 کے تحت کام کررہے ہیں اگر ہمارے پاس کوئی فورس ہوتی تو فوج کو کیوں بلاتے لہٰذا ہمارے پاس ایسے کوئی وسائل نہیں جو ہم راتوں رات ہزاروں افراد کو نکال سکیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اپنی توپوں کا رخ میڈیا کی طرف کرتے ہوئے کہا کہ وہ میڈیا کے کہنے پر نہ کہیں آتے ہیں اور نہ ہی جاتے ہیں ان کا اپنا سسٹم ہے جس کے تحت وہ چلتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…