اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

مچھ جیل انتظامیہ نے صولت مرزا کے ڈیتھ وارنٹ کے اجراءکے لیے وفاقی حکومت اور محکمہ داخلہ کو خط ارسال کر دیا

datetime 24  اپریل‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک)مچھ جیل انتظامیہ نے صولت مرزا کے ڈیتھ وارنٹ کے اجراءکے لیے وفاقی اور محکمہ داخلہ کو خط ارسال کر دیا ہے صولت مرزا کی پھانسی میں وفاقی حکومت نے 30 روز کے لئے توسیع کی تھی، جس کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ مچھ جیل انتظامیہ کی جانب سے صولت مرزا کے دوبارہ ڈیتھ وارنٹ جاری کرنے کے لئے وفاقی حکومت اور محکمہ داخلہ سے رجوع کر لیا گیا ہے، دوسری طرف عدالت کو بھی ڈیتھ وارنٹ جاری کرنے کے لئے خط ارسال کر دیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ صولت مرزا کے ڈیتھ وارنٹ کل تک جاری ہو جائیں۔ صولت مرزا کی سزائے موت میں وفاقی حکومت دو بار توسیع کر چکی ہے۔واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کے ای ایس سی کے منیجنگ ڈائریکٹر ملک شاہد حامد سمیت تہرے قتل کیس میں سزائے موت کے منتظر صولت علی خان عرف صولت مرز ا کے 24مارچ کو یکم اپریل کےلئے بلیک وارنٹ جاری کئے تھے تاہم مجرم کے وڈیو بیان پر جے آئی ٹی کےلئے صدارتی حکم نامہ کی وجہ سے پھانسی پر عملدرآمد 30یوم کےلئے روک دیا تھا۔مجرم پر الزام ہے کہ 5 جولائی 1997کو ڈیفنس کی حدود میں واقع بنگلہ نمبر 75۔بی کے سامنے کے ای ایس سی کے مینیجنگ ڈائریکٹر کو ہدف بناتے ہوئے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ملک شاہد حامد سمیت اس ڈرائیور اور سیکورٹی گارڈ جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ مجرم واردات کے بعد بیرون ملک فرار ہوگیا تھا جس کے بعد 10دسمبر 1998کو اس وقت کے تھانہ گلبہار کے ایس ایچ او چوہدری اسلم نے خفیہ اطلاع ملنے پر مجرصولت مرز ا کو کراچی ائیرپورٹ سے اس وقت گرفتارکیا جب وہ بینکاک سے پاکستان آرہا تھا ،پولیس نے مجرم کو امتناعی اسلحہ رکھنے کے مقدمہ الزام نمبر395/1998 میں گرفتارکیا تھا جس کے بعددوران تفتیش مجرم نے ا نکشاف کیا کہ اس نے ملک شاہدحامد ودیگر کو بھی قتل کیا ہے ،پولیس نے مجرم کی نشاندہی پر11دسمبر1998کو متحدہ کے تنظیمی یونٹ سے واردات میں استعمال ہونے والی کلاشنکوف بھی برآمد کرلی تھی جبکہ مجرم نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہاتھاکہ اس نے ایم کیوایم کی قیادت کے حکم پر ملک شاہد حامد کو قتل کیا کیونکہ وہ کے ای ایس سی میں موجود ایم کیوایم کے کارکن ملازمین کو برطرف کررہاتھا۔مجرم کےخلاف تھانہ ڈیفنس میں مقتول کی بیوہ اور مقدمے کی چشم دید گواہ شہناز حامد کی مدعیت میں مقدمہ الزام نمبر 158/1997 زیردفعہ/34 302 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔ مجرم صولت مرزا کو 24 مئی 1999کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 5 نے کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر ملک شاہد حامد سمیت ان کے ڈرائیور اشرف بروہی اور سیکورٹی گارڈ خان اکبر کے قتل میں جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…