منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

شفقت حسین کو 6 مئی کو پھانسی دی جائے گی

datetime 24  اپریل‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک)انسداد دہشت گردی کی عدالت نے شفقت حیسن کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیئے گئے ہیں۔قتل کے مجرم شفقت حسین کو 6مئی کو پھانسی دی جائے گی۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے قتل کے مقدمے میں پھانسی کی سزا پانے والے شفقت حسین کی سزا پر عمل درآمد کیلئے محکمہ داخلہ کی درخواست پر ڈیتھ وارنٹ جاری کیے۔مجرم کو اگلے مہینے کی چھ تاریخ کو تختہ دار پر لٹکایا جائے گا۔اس سے قبل حکومت کی ہدایت پر مجرم شفقت حسین کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا۔شفقت حسین کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد مجرم عمر کے تعین کے لیے موخر کیا گیا تھا۔میڈیکل بورڈ کی جانب سے شفقت حسین کی عمر کے تعین کے بعد سزا پر عمل درآمد کے احکامات جاری کیے گئے۔جس کی روشنی میں کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 6مئی کے لئے ڈیتھ وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ شفقت حسین نے اپنی عمر کی تصدیق کے لیے جوڈیشل انکوائری کی درخواست دائر کی تھی۔درخواست میں عمر کے تعین کے لیے ایف آئی اے (فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی) کی تحقیقات پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا تھا۔شفقت حسین کی درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ عدالت عمر کے تعین کے ساتھ پر تشدد کی تحقیقات کی انکوائری کا بھی حکم دے۔صدر ممنون حسین نے 18مارچ کو ملزم کی رحم کی اپیل مسترد کر دی تھی جبکہ عمر کے تعین کیلئے 30روز کے لیے پھانسی کی سزا روک دی تھی۔یاد رہے کہ شفقت حسین نے2001 میں 5 سالہ عمیرکوقتل کیا تھا، جس پر انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے اسے 2004 میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔شفقت کی رحم کی اپیلیں 2006 میں ہائی کورٹ، 2007 میں سپریم کورٹ جبکہ 2012 میں صدر مملکت کی جانب سے مسترد کی جا چکی ہیں اور اسے 19 مارچ کو تختہ دار پر لٹکانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…