جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

”پاکستان کے سعودی عرب کےساتھ خصوصی قریبی تعلقات تھے “وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے بیان نے سب کو چونکادیا

datetime 20  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ یمن کے معاملے پر پاکستان اور ترکی مصالحتی کردار ادا کررہے ہیں ۔دونوں گروپس کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہتے ہیں ۔خلیجی ممالک سے پاکستانیوں کی بے دخلی کا امکان نہیں ہے۔گناہ گار آدمی ہوں۔ حرمین شریفین کا دفاع کر تے ہوئے مرنے کےلئے تیار ہوں ۔پاکستان کے سعودی عرب کےساتھ خصوصی قریبی تعلقات تھے ۔ برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔ حوثیوں کی مذمت کرتے ہیں۔حکومت کی برطرفی کی کسی مسلح گروپ کو اجازت نہیں ہونی چاہیے امریکہ کے دورہ کے اختتام پر میڈیا سے بات چیت کے دور ان ایک صحافی کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہاکہ یمن کے تنازعے میں پاکستان کے مو ¿قف کی بناءپر مشرقِ وسطیٰ میں کام کرنے والے پاکستانی ورکروں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور نہیں کیا جائےگا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے 1982ءمیں ایک فوجی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت سعودی عرب کو پاکستانی فوجیوں کی خدمات حاصل کرنے کا حقدار قرار دیا گیا تھا انہوں نے کہا کہ یہ انتظامات ایک مختلف مقاصد کے لیے تھے اور اس بارے میں بات کرنا قومی مفاد میں نہیں ہے۔“اسحاق ڈار نے کہا کہ ”خدا نہ کرے ہم ایسا تاثر پیدا نہیں کرنا چاہتے ہیں کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ نہیں ہیں۔ میں ایک گناہ گار بندہ ہوں تاہم میں حرمین شریفین کا دفاع کرتے ہوئے مرنے کے لیے تیار ہوں۔“ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہاکہ یمن کے تنازعے پر روشنی ڈالی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اس مالی سال کے آخر تک غیرملکی زرِمبادلہ کے ذخائر 18.5 ارب ڈالرز کی ریکارڈ سطح تک پہنچ جائیں گےایک صحافی نے یاد دلایا کہ غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں سب سے بڑا حصہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا ہے، جنہوں نے گزشتہ نو مہینوں کے دوران 13.3 ارب ڈالرز کی ریکارڈ رقم بھیجی ہے تاہم سعودی عرب فوجیوں کو بھیجنے سے پاکستان کے انکار کی وجہ سے کچھ عرب ملکوں میں پاکستانی ورکروں کو ملک بدر کرنے کی دھمکی دی جارہی ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ مجھے کافی حد تک یقین ہے کہ ہمیں اس صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ یمن کے معاملے پر پارلیمنٹ کی قرارداد سے کچھ عرب ملکوں کو غلط فہمی ہوئی تھی تاہم ہم نے اپنا مو ¿قف واضح کردیا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ خصوصی قریبی تعلقات تھے اور ہم ان تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہاکہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو کسی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔ ہم حوثیوں کی مذمت کرتے ہیں اور صدر عبدالرب المنصور ہادی کی بحالی کی حمایت کرتے ہیںان کی حکومت کی برطرفی کی کسی مسلح گروپ کو اجازت نہیں ہونی چاہیے۔“وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اور ترکی مصالحتی کردار ادا کررہے ہیں، اور دونوں گروپس کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…