پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

غوری میزائل نے بھارت کی نیندیں کیوں اڑا رکھی ہیں؟ اس ٹیکنا لوجی کی اہم ترین خصوصیات جا نئے

datetime 15  اپریل‬‮  2015 |

لاہور ( نیوز ڈیسک) پاکستان کی جانب سے غوری بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے جس میں جوہری ہتھیار لے جانے سمیت 1300 کلومیٹر تک حملہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ اس میزائل کے حوالے سے نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز پر پروگرام نقطہ نظر میں بات کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) نادر میر کا کہنا تھا کہ پاکستان میزائل ٹیکنالوجی میں بھارت سے 2 قدم آگے ہے ۔نادر میر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس 700 کلو میٹر سے لے کر 3000 کلو میٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل موجود ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے 3000 کلو میٹر دور بھارت کا آخری صوبہ آسام موجود ہے اور ہمارے پاس آخری صوبہ کو نشانہ بنانے تک کی صلاحیت موجود ہے ۔ بھارت میں میزائل ٹیکنالوجی کو بہتر کرنے کے لیے ادارہ قائم کیا جا رہا ہے لیکن پاکستان اب ایسی میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جس کے ذریعے دوسرے میزائل کو چکما دے کر ہدف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے,پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی بھارت سے کہیں زیادہ بہتر ہے اور ہم بھارت کے ہر حملے کا بھرپور جواب دے سکتے ہیں۔ بریگیڈیئر (ر) نادر میر کا کہنا تھا کہ آج کے تجربہ سے دنیا کو ایک واضح پیغام پہنچا ہے کہ پاکستان دفاعی طور پر مضبوط ہے اور دفاعی ٹیکنالوجی میں پاکستان ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے ,آج کا تجربہ پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری ہے کیونکہ غوری بیلسٹک میزائل غوری میزائل کی بہتر شکل ہے ۔ غوری بیلسٹک میزائل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ میزائل مائع ایندھن پر چلتا ہے ۔یہ ٹیکنالوجی ٹھوس ایندھن کی نسبت سستی ہے اور پاکستان کے پاس ٹھوس ایندھن سے چلنے والے میزائل بھی موجود ہیں۔نادر میر نے بتایا کہ پاکستان کے پاس مختلف اقسام کے میزائل موجود ہیں جن سے وطن عزیز کا دفاع بہترین انداز میں کیا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…