جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

سندھ بھر میں دہشت گردوں سہولت کاروں اوران کے سرپرستوں کے گرد گھیرا تنگ

datetime 14  اپریل‬‮  2015 |

کراچی (نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت کی ہدایت پر سیکیورٹی اداروں نے کراچی سمیت سندھ بھر میں سرکاری اور نجی اداروں کی قیمتی اراضی پر قبضے، دہشت گردوں کو مالی معاونت اور سہولت پہنچانے اور دیگر جرائم میں ملوث ملزمان کی سیاسی سطح پر سرپرستی کرنے والوں کے گرد گھیرا انتہائی تنگ کردیا ہے۔ان ملزمان کی سرپرستی کرنے والوں میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے اہم رہنما، بعض انتظامی عہدے دار، سرمایہ دار اور دیگر اہم شخصیات شامل ہیں، ان تمام جرائم کی سرپرستی کرنے والوں کی فائنل فہرستیں مرتب کی جارہی ہیں اور ان کے خلاف ٹھوس شواہد کی روشنی میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کی جائے گی۔ انتہائی باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وفاقی حکومت نے کراچی سمیت سندھ میں جرائم پیشہ عناصر اوران کے سرپرستوں کے خلاف ا پریشن کی حکمت عملی کے تحت کارروائی کا دائرہ کار بڑھانے کیلیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کردی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کوبعض گرفتار دہشت گردوں سے تفتیش کے دوران انتہائی اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ کراچی میں سرکاری ونجی اراضی پر قبضہ دہشت گروں کی مالی معاونت کا بڑا ذریعہ ہے، زمینوں پر قبضے کے معاملات میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے اہم رہنما، بعض انتظامی اور پولیس افسران، سرمایہ دار اور اہم شخصیات ملوث ہیں جبکہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم میں ملوث مختلف جرائم پیشہ عناصر کو بعض سیاسی ومذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کی سرپرستی حاصل ہے جو ان کو سہولتیں بھی فراہم کرتے ہیں۔جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کرنے والے زمینوں پر قبضے ،سرکاری ٹھیکوں کے حصول اور دیگر انتظامی امور میں نہ صرف مداخلت کرتے ہیں بلکہ ان جرائم پیشہ عناصر کے ذریعے کام نہ کرنے والے افراد کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، اس حوالے سے بھی تفتیش کی جارہی ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کی مالی معاونت کا طریقہ کار کیا ہیں ؟یہ مالی معاونت کن امور میں استعمال کی جارہی ہے۔
ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وفاقی حکومت کو ا گاہ کیا تھا کہ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کرنے والی اہم شخصیات کی گرفتاری ناگزیر ہے، ان تمام معلومات کا وفاقی حکومت نے اعلیٰ سطح پر جائزہ لیا ہے اور اس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات موصول ہوئی ہیں کہ ان اہم شخصیات کے خلاف کارروائی سے قبل معلومات حاصل کی جائیں اور ٹھوس شواہد پر کارروائی کی جائے۔ اہم شخصیات کی نقل وحرکت اور دیگر معلومات بھی اکٹھی کی جارہی ہیں، وفاقی حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح ہدایت کی ہے کہ ان جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کرنے والوں کو بلا تفریق گرفتار کیا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتاری کیلیے ا پریشن حکمت عملی کو مکمل صیغہ راز میں رکھا جارہا ہے اور ان شخصیات کی گرفتاری کیلیے حکمت عملی طے کرلی گئی ہے، یہ شخصیات کسی بھی مقام، دفتر یا دیگر اہم مقامات پر موجود ہوں، بغیر کسی دباؤ کے ان کو قانون کے مطابق گرفتار کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…