پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت سے 1928 سکھ یاتری پاکستان پہنچ گئے

datetime 11  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سولہ سو ننانوے میں سکھوں کے دسویں گرو، گرو گوبند سنگھ نے کیش گڑھ کے قریب سکھوں کو اکٹھا کیا اور ا±نہیں پانچ کڑھا، کچھا، کرپان، کیس اور کنگھے کو اپنی زندگیوں کا لازمی حصہ قرار دینے کا حکم دیا۔دوسری بہت سی روایات کے علاوہ، اِس تناظر میں بیساکھی میلہ ہرسال تیرہ اپریل کو حسن ابدال اور ننکانہ صاحب میں لگتا ہے جس میں شرکت کے لیے بھارت سے ا±نیس سو اٹھائیس یاتریوں کے پاکستان پہنچنے پر ا±ن کا گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔ پاکستان میں اپنے قیام کے دوران سکھ یاتری، حسن ابدال، ننکانہ صاحب اور کرتار پور میں ہونے والی مختلف تقریبات میں شرکت کریں گے اور اِس کا احساس ہی ا±نہیں بے چین کیے ہوئے تھا کہ کب وہ وقت آئے گا جب وہ اپنے مقدس مقامات پر حاضری دیں گے۔ بیساکھی میلے کی تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت کے علاوہ دیگر ممالک سے بھی پندرہ سو یاتری پاکستان پہنچے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…