بنوں(نیوز ڈیسک) وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے سرداروں نے شمالی وزیرستان ایجنسیز کی پولیٹیکل انتظامیہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے معاہدے پرتحفظات کا اظہار کردیا ہے۔قبائلی سرداروں کو پولیٹیکل انتظامیہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی دستاویزات میں بہت سی نئی پابندیاں لگانے کی تجاویز کے ساتھ ساتھ اپنے علاقوں میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے ذمہ دار بھی قرار دیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیٹیکل انتظامیہ قبائلیوں کی ان کے علاقوں میں واپسی سے پہلے ان کی جانب سے امن و امان کی صورت حال اطمینان کے لیے ایک معاہدہ کرنا چاہتی ہے۔ذرائع نے ڈان کو بتانا ہے کہ قبائلی سرداروں کو واضح طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ اپنے علاقوں میں واپسی کے لئے ان کو نئے معاہدے کو قبول کرنا ہوگا اور اس معاہدے کی تمام شرائط کو بھی پورا کرنا ان کی ذمہ داری ہوگی۔شمالی وزیر ستان کے داوار، امانزئی وزیر، سیدگئی، خاراسین قبائل کے سرداروں کی جانب سے بنوں میں ہونے والے جرگے نے مذکورہ معاہدے پر اپنے تحفظات کا اعلان کرتے ہوئے معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا۔جرگے کا کہنا تھا کہ اپنے علاقوں میں واپسی کے بعد وہ وہاں کی سیکیورٹی کے حوالے سے ذمہ داری نہیں لے سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اینجسیز میں امن و امان کی صورت حال کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے جبکہ ان علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی اپریشن تاحال جاری ہے۔ایک قبائلی سردار کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں یہ معاہدہ قابل قبول نہیں ہے، جس کی وجہ انہوں نے بتائی کہ اس معاہدے میں ان کے لوگوں پر بھاری ذمہ داریاں ڈال دی گئی ہے اور انھیں دہشت گردوں کو علاقے میں ا?نے سے روکنے کے لئے اقدامات اٹھانے کا بھی کہا جارہا ہے جبکہ ان سے تمام بھاری ہتھیار بھی جمع کروالیے گئے ہیں۔انتظامیہ کی جانب سے شمالی وزیرستان کے تمام قبائلیوں کو فراہم کی جانے والا 8 صفات پر مشتمل معاہدے میں قبائلی علاقوں میں حکومتی عمل داری اور عوام کی جانب سے علاقے میں دہشت گردوں کو روکنے کے حوالے سے نکات موجود ہیں۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ائین، فرنٹیئر کرائم ریگولیشن اور لوکل کسٹم کے تحت قبائلی پابند ہیں کہ وہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اپنا مثبت قردار داد کریں۔ملک کے خلاف ہونے والی کسی بھی سازش میں قبائلی شریک نہیں ہونگے اور ناہی اپنی سرزمین (شمالی وزیرستان) پر دہشت گردوں کو کسی بھی صورت میں داخل ہونے دیں گے۔معاہدے میں کہا گیا ہے کہ قبائلی اپنے علاقوں میں دہشت گردوں کو پناہیں بنانے نہیں دیں گے اور اگر کوئی غیر ریاستی عناصر ایسا کرتا ہے تو اس کے معلومات انتظامیہ کو فراہم کرنے کے پابند ہونگے۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے ختم نہ ہونے والے مسائل کی وجہ سے یہ ضروری ہے کہ 2015ء معاہدہ مقامی قبائلیوں سے کیا جائے اور ان کو ذمہ دار بنایا جائے کہ وہ اپنے علا قوں میں دہشت گردوں کی ا مد کو روکے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اختتام کا آغاز
-
ایران، اسرائیل امریکا جنگ،بابا وانگا کی خطرناک پیشگوئی
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم خبر آگئی
-
عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتیں، حکومت پاکستان کا بڑا فیصلہ!
-
دو چھٹیوں کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری
-
ایرانی سپریم لیڈر کی موت پر اظہار افسوس کرنے پر سابق گورنرپنجاب چوہدری محمد سرور کو بیٹے نے تنقید کا...
-
پنجاب میں موٹر سائیکل اور گاڑی مالکان کے لیے اہم خبر آگئی
-
سونا ہزاروں روپے مہنگا فی تولہ قیمت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا
-
آیت اللہ خامنہ ای ایک ہاتھ چادر کے نیچے کیوں ڈھانپ کر رکھتے تھے؟
-
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: پاکستان کی ناقص کارکردگی، پہلا استعفیٰ آگیا
-
سحری میں اہل خانہ کا اجتماع ،دوشیزہ نے باپ کو قتل کرڈالا
-
روس کی تیسری عالمی جنگ کی دھمکی
-
پاکستان کی درخواست پر ایران نے سعودی عرب پر حملے نہ کرنے کی ضمانت دے دی
-
مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمت میں بڑی کمی



















































