اسلام آباد( این این آئی)سپریم کورٹ نے ملزم کی ضمانت منسوخ کرنے کے لیے 8اصول طے کر تے ہوئے قرار دیا ہے کہ ضمانت کا حکم بادی النظر میں غیر قانونی یا ناانصافی پر مبنی ہو تو ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ملزم ضمانت کی رعایت کا ناجائز استعمال کرے، استغاثہ کے گواہوں پر دبا ڈال کر شواہد متاثر کرنے یا ان میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے تو ضمانت منسوخ ہوگی۔عدالت نے قرار دیا کہ اگر ملزم کے عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر فرار ہونے کا امکان ہو، تفتیش کے شفاف عمل میں مداخلت کی کوشش کرے یا آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اسی نوعیت کے کسی دوسرے جرم کا ارتکاب کرے تو بھی ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ دوران تفتیش نئے حقائق اور شواہد سامنے آئیں جو ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کا اشارہ دیں تو ضمانت منسوخی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا ملزم کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں 9 ماہ کی تاخیر اور ملزم کا کردار مزید تحقیق کا تقاضا کرتا ہے۔کیس کے مطابق لاڑکانہ کے رحمت پور تھانے میں درج مقدمے کا واقعہ 3مارچ 2024ء کو پیش آیا، ڈسپوزل فیز سے اسپیشل لائن کھینچ کر دکانوں کو بجلی فراہم کرنے کے دوران تار ٹوٹنے سے نور حسین نامی شخص جاں بحق ہوگیا تھا۔سیشن جج لاڑکانہ نے 30جنوری 2025ء کو ملزم علی اصغر کھوکھر کی قبل از گرفتاری ضمانت مسترد کر دی تھی۔
سندھ ہائیکورٹ سرکٹ کورٹ لاڑکانہ نے 20اکتوبر 2025ء کو ایف آئی آر میں 9ماہ کی تاخیر اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر ملزم کی ضمانت منظور کر لی تھی، جس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر نے فیصلہ تحریر کیا، سپریم کورٹ نے فیصلے کی نقل چیئرمین واپڈا کو معلومات کے لیے ارسال کرنے کی ہدایت بھی کی۔عدالت نے قرار دیا کہ بجلی کی غیر قانونی فراہمی، چوری اور پرائیویٹ سائفننگ میں ملوث افراد کے کردار کا واپڈا اور متعلقہ یوٹیلیٹی کمپنی جائزہ لیں۔



















































