بدھ‬‮ ، 28 اکتوبر‬‮ 2026 

جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی ہوگئے

datetime 28  اکتوبر‬‮  2026 |

لاہور (این این آئی) لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ۔

صدرِ پاکستان کو ارسال کیے گئے اپنے استعفیٰ میں انہوں نے ذاتی وجوہات اور حالیہ سرجری کے بعد صحت سے متعلق مسائل کے ساتھ ساتھ اپنے ضمیر (کی آواز)کو بھی اس فیصلے کی بنیاد قرار دیا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے ( بی بی سی ) کے مطابق صدرِ مملکت کو 28اکتوبر 2026ء کو بھجوائے گئے اپنے استعفیٰ میں جسٹس کیانی نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں خدمات انجام دینا ان کے لیے اعزاز کی بات رہی۔اپنے عدالتی دور کے دوران انہوں نے مختلف نوعیت کے 23ہزار سے زیادہ مقدمات نمٹائے اور ہمیشہ آئین کی بالا دستی، بنیادی حقوق کے تحفظ اور بلا خوف و امتیاز انصاف کی فراہمی کی کوشش کی۔اپنے استعفے میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ میری رائے میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے متعارف کروائی گئی تبدیلیوں نے ہائی کورٹس کی خودمختاری اور ادارہ جاتی سالمیت کو متاثر کیا ہے۔ میں نے عدلیہ کے اداروں پر ایگزیکٹیو (انتظامیہ)کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مشاہدہ کیا ہے، جس کا دائرہ ججوں کی تقرری اور تبادلوں تک پھیل چکا ہے۔انہوں نے مزید لکھا کہ میری نظر میں اس قسم کی مداخلت نے عدلیہ کی آزادی اور عدالتی عمل کی غیر جانبداری پر عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں انصاف کی فراہمی کے نظام پر عوامی یقین متزلزل ہوا ہے۔اپنے استعفیٰ میں جسٹس کیانی نے عام سائلین کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ نظامِ انصاف کے اصل فریق عام سائلین ہوتے ہیں اور ان کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ انصاف کی فراہمی کے لیے قائم نظام کے ثمرات دیگر حلقوں کو حاصل ہو رہے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ موجودہ حالات میں میرا ضمیر مجھے عدالتی منصب پر برقرار رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔جسٹس محسن اختر کے مطابق یہ ایک تکلیف دہ فیصلہ ہے تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ عدالتی عہدہ آزادی، آئین سے وفاداری اور انسانی وقار کے تحفظ سے الگ نہیں ہو سکتا۔استعفیٰ میں جسٹس کیانی نے یہ بھی کہا کہ وہ اب وکالت کے شعبے میں واپس جانا چاہتے ہیں، جہاں وہ عوامی حقوق کے تحفظ اور قانونی آگاہی کے فروغ کے لیے اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔اپنے استعفیٰ میں جسٹس محسن اختر کیانی نے خاص طور پر 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان ترامیم کے نتیجے میں ہائی کورٹس کی خود مختاری اور عدالتی آزادی متاثر ہوئی ہے۔خیال رہے کہ جسٹس محسن اختر کیانی نے بطور جج اپنے کیریئر کا اغاز اسلام آباد ہائیکورٹ سے کیا تھا اور وہ جسٹس عامر فاروق کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج تھے۔جسٹس عامر فاروق کے سپریم کورٹ میں جانے کے بعد جسٹس محسن اختر کیانی کے اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بننے کے امکانات روشن ہوگئے تھے، تاہم اسی دوران آئینی ترمیم کے بعد ہائی کورٹ کے ججز کو ملک کے دیگر ہائی کورٹس میں تبادلے کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنادیا گیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی ان تین ججز میں شامل ہیں جن کا تبادلہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے دیگر صوبائی کورٹس میں کر دیا گیا تھا۔جسٹس محسن اختر کیانی اسلام آباد ہائیکورٹ سے ٹرانسفر ہوکر لاہور ہائیکورٹ میں فرائض انجام دے رہے تھے۔جسٹس محسن اختر کیانی اسلام باد ہائیکورٹ میں سنیارٹی لسٹ میں دوسرے نمبر اور لاہور ہائیکورٹ میں دسویں نمبر پر تھے۔نئے ججز روسٹر میں جسٹس محسن اختر کیانی کا تبادلہ راولپنڈی بنچ میں کیا گیا تھا اور انہوں نے دو نومبر سے راولپنڈی بینچ میں مقدمات کی سماعت کرنا تھی۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 11 فروری 2032ء میں ریٹائر ڈ ہونا تھا۔



کالم



مرنے کے علاوہ


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…