اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بیجنگ: چین نے ایرانی فضائی کمپنیوں کے خلاف امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غیر قانونی قرار دے دیا۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گوو جیاکون نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ بیجنگ یکطرفہ پابندیوں کی ہمیشہ مخالفت کرتا آیا ہے۔ ان کے مطابق ایسی پابندیاں بین الاقوامی قوانین کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں اور انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری بھی حاصل نہیں ہوتی۔چینی وزارت خارجہ کا یہ ردعمل امریکی وزیر خزانہ کے اس بیان کے ایک روز بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی پابندیوں کے دباؤ کے نتیجے میں ایرانی فضائی کمپنیاں مستقبل قریب میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے قابل نہیں رہیں گی۔دوسری جانب چین نے تائیوان کے معاملے پر بھی سخت مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس معاملے میں مقررہ حدود سے تجاوز کرنے والوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بیجنگ ان ممالک کی جانب سے تائیوان انتظامیہ کے ساتھ سرکاری سطح پر کسی بھی قسم کے رابطے یا تبادلے کی مخالفت کرتا ہے جو چین کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حال ہی میں پاناما کی کانگریس کے بعض ارکان نے ’’پاناما-تائیوان قانون ساز اداروں کا کراس پارٹی ایکسچینج گروپ‘‘ تشکیل دیا تھا۔اس پیش رفت پر پاناما کے صدر نے واضح کیا کہ ملک کی خارجہ پالیسی مرتب کرنے کا اختیار حکومت کے پاس ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاناما حکومت تائیوان کے ساتھ پارلیمانی ارکان کے رابطوں کی حمایت نہیں کرتی۔چینی ترجمان نے مزید کہا کہ چین تائیوان کے معاملے میں اپنی خودمختاری اور بنیادی مفادات سے متعلق کسی بھی ایسے اقدام کی شدید مخالفت کرتا ہے جسے وہ حد سے تجاوز تصور کرتا ہے، اور خبردار کیا کہ ایسے اقدامات کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔



















































