جمعہ‬‮ ، 04 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کو کسی بھی وقت 2022 سے بڑی اور نیپال جیسی قدرتی تباہی کا سامنا ہوسکتا ہے، ماہرین نے خبردار کردیا

datetime 4  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) ماہرینِ ماحولیات نے پاکستان کے شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ملک کو مستقبل میں بڑے پیمانے پر قدرتی آفت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان، چترال اور خیبر پختونخوا ہمالیائی خطے سے منسلک ہیں، جہاں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے گلیشیئرز کے پگھلاؤ کی رفتار میں اضافہ کردیا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں اچانک سیلاب اور دیگر قدرتی حادثات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ ملک کے بالائی شمالی علاقوں میں 7 ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں، جن میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں دریاؤں کے بہاؤ اور سیلاب کے خطرات کو متاثر کررہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دریاؤں میں آنے والے پانی کا تقریباً 70 فیصد حصہ گلیشیئرز کے پگھلنے سے حاصل ہوتا ہے۔ معمول کے مطابق گلیشیئرز کا پگھلاؤ پانی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے،

تاہم غیر معمولی رفتار سے اور وقت سے پہلے برف پگھلنے کی صورت میں یہی عمل اچانک سیلاب کا سبب بن سکتا ہے۔پاکستان ماضی میں بھی شدید سیلابی صورتحال کا سامنا کرچکا ہے۔ 2010 اور 2022 کے تباہ کن سیلابوں نے ملک کے بڑے حصے کو متاثر کیا، جبکہ 2022 کے سیلاب کے دوران تقریباً ایک تہائی پاکستان زیرِ آب آگیا تھا۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے اپنی معیشت، شہری منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے مطابق ڈھالنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے تو آنے والے برسوں میں ملک کو 2022 سے بھی زیادہ سنگین قدرتی تباہی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…