اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) ماہرینِ ماحولیات نے پاکستان کے شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ
موسمیاتی تبدیلی کے باعث ملک کو مستقبل میں بڑے پیمانے پر قدرتی آفت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان، چترال اور خیبر پختونخوا ہمالیائی خطے سے منسلک ہیں، جہاں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے گلیشیئرز کے پگھلاؤ کی رفتار میں اضافہ کردیا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں اچانک سیلاب اور دیگر قدرتی حادثات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ ملک کے بالائی شمالی علاقوں میں 7 ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں، جن میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں دریاؤں کے بہاؤ اور سیلاب کے خطرات کو متاثر کررہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دریاؤں میں آنے والے پانی کا تقریباً 70 فیصد حصہ گلیشیئرز کے پگھلنے سے حاصل ہوتا ہے۔ معمول کے مطابق گلیشیئرز کا پگھلاؤ پانی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے،
تاہم غیر معمولی رفتار سے اور وقت سے پہلے برف پگھلنے کی صورت میں یہی عمل اچانک سیلاب کا سبب بن سکتا ہے۔پاکستان ماضی میں بھی شدید سیلابی صورتحال کا سامنا کرچکا ہے۔ 2010 اور 2022 کے تباہ کن سیلابوں نے ملک کے بڑے حصے کو متاثر کیا، جبکہ 2022 کے سیلاب کے دوران تقریباً ایک تہائی پاکستان زیرِ آب آگیا تھا۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے اپنی معیشت، شہری منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے مطابق ڈھالنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے تو آنے والے برسوں میں ملک کو 2022 سے بھی زیادہ سنگین قدرتی تباہی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔



















































