اسلام آباد (نیوز ڈیسک)مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید سنگین صورت اختیار کرتی جا رہی ہے،
جبکہ اس کے اثرات مصر، عراق اور بحیرہ احمر کے علاقوں تک پہنچنے لگے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق مصر کی بندرگاہ دمیاطہ میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق دمیاطہ بندرگاہ کے اس حصے میں ڈرون حملہ کیا گیا جہاں قدرتی گیس کی لوڈنگ کا عمل جاری تھا۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حملے کا ہدف ایک امریکی ملکیت کا فلوٹنگ اسٹوریج ٹینکر تھا، جس میں آگ بھڑک اٹھی۔ آگ بعد ازاں قریب کھڑے ایک دوسرے جہاز تک بھی پہنچ گئی۔
برطانوی میری ٹائم سکیورٹی کمپنی امبری کے مطابق دونوں جہازوں پر موجود عملے کو بروقت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، جبکہ بعد میں آگ پر قابو پا لیا گیا۔ تاحال کسی تنظیم یا گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔دوسری جانب امریکی اور سعودی افواج نے عراق میں ایران سے منسلک مسلح گروہوں کے مبینہ مراکز پر مشترکہ فضائی کارروائیاں کیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے امریکی فوجیوں اور سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی مفادات کو مسلسل نشانہ بنایا گیا تو واشنگٹن بھرپور اور سخت فوجی ردعمل دے گا۔



















































