ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد ،فون سننے کے بعد ایس پی نے اہلکار سے گن چھین کر خود کو گولی مارلی

datetime 24  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد میں ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر نے فون سننے کے بعد اہلکار سے پستول چھین کر خود کو گولی مارلی اور زندگی کا خاتمہ کرلیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایس پی عدیل اکبر نے گن مین سے اسلحہ چھین کر خود کو گولی ماری، ایس پی عدیل اکبر کے گن مین اور موقع پر موجود دیگر اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا۔ذرائع کے مطابق ایک فون کال سننے کے بعد ایس پی آئی نائن عدیل اکبر نے خود کو سینے پر پستول سے گولی ماری جس پر انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔ایس پی آئی نائن عدیل اکبر کا پوسٹمارٹم کرانے کے حوالے سے آئی جی علی ناصر رضوی خود پمز اسپتال میں موجود رہے، آئی جی اسلام آباد پولیس نے متوفی ایس پی عدیل اکبر کے ڈاکٹروں سے خود تمام تفصیلات نوٹ کیں۔ذرائع کے مطابق ایس پی عدیل اکبر اس سے قبل بلوچستان میں تعینات تھے، ایس پی عدیل اکبر 46 کامن کے افسر تھے، مرحوم کا تعلق کامونکی سے ہے۔

متوفی ایس پی کی اسلام آباد پولیس لائنز میں نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد انکے آبائی علاقہ سیالکوٹ میت سرکاری طور پر روانہ کی جائے گی تاہم انکے جسم سے نمونے حاصل کرلئے گئے ہیں جنکی میڈیکل رپورٹس کوتفتیش کاحصہ بنایا جائیگا۔پولیس نے موقع کی شہادتیں، خون آلود یونیفارم، پستول و دیگر شہادتیں محفوظ کرلی ہیں جبکہ پستول کے فنگر پرنٹس لیکر انکی نادرا سے تصدیق بھی کروائی جائے گی۔ایس پی عدیل اکبر کو آخری کال کس نے کی اور کیا بات کی؟ ذرائع نے کہا کہ اعلی سطح کے تحقیقات کاروں کی تحقیقات آخری کال وائس ریکارڈنگ پر رک گئی اس حوالے سے موبائل فون کا ڈیٹا حاصل کیا جارہا ہے۔ٹھیک ٹھاک ڈیوٹی کرتے اچانک فوری وجہ کیا بنی؟ ذرائع نے کہا کہ آخری کال وائس ریکارڈنگ یا وقوعہ کے روز کی تمام کالز سے واضح ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…