جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

جیل سے خود احتجاجی تحریک کی سربراہی کروں گا، عمران خان

datetime 4  جون‬‮  2025 |

راولپنڈی (این این آئی)بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف پر تمام قانونی اور آئینی راستے بند کر دیے گئے ہیں اس لیے میں اب خود بطور پارٹی سربراہ جیل سے احتجاجی تحریک کی سربراہی کروں گا۔بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ پر کی گئی پوسٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے اڈیالہ جیل سے اپنے پیغام میں کہا کہ اس ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہے، تحریک انصاف پر تمام قانونی اور آئینی راستے بند کر دیے گئے ہیں اس لیے میں اب خود بطور پارٹی سربراہ جیل سے احتجاجی تحریک کی سربراہی کروں گا، باہر میری نمائندگی عمر ایوب کریں گے اور سلمان اکرم راجہ ہدایات پر عملدرآمد کروائیں گے۔

بانی پی ٹی آئی نے اپنے پیغام میں کہا کہ تحریک کا لائحہ عمل چند روز میں قوم کے سامنے پیش کر دیا جائے گا، اس احتجاجی تحریک کے لیے اپنی اتحادی جماعتوں سمیت تحریک تحفظ آئین، جی ڈی اے اور ماہرنگ بلوچ کو بھی دعوت دیں گے، انشااللہ اس تحریک کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ انہوں نے پاکستانی قوم کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ شاید یہ پھر سے میری ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دیں لیکن آپ کو خود پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑے ہونا ہوگا۔عمران خان نے کہاکہ احتجاجی تحریک ملک گیر اور مسلسل ہو گی کیونکہ اسلام آباد میں اسنائپرز تعینات ہوتے ہیں جو معصوم شہریوں اور پر امن احتجاجیوں پر سیدھے فائر کھول دیتے ہیں، جو قتل عام تحریک انصاف کے ساتھ کیا گیا اور کسی جماعت کے ساتھ نہیں ہوا۔انہوں نے پارٹی عہدیداران کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر میں جیل کاٹ سکتا ہوں تو آپ کو بھی کوئی ڈر نہیں ہونا چاہیئے، اب تک پارٹی سب کو بنی بنائی مل گئی تھی، اب مشکل وقت ہے اور سب کا امتحان ہے، مجھے بھی جیل میں ڈالنے کے بعد تین سال خاموش ہو جانے پر آرام سے بنی گالا بیٹھ جانے کا کہا گیا تھا جیسے نواز شریف کو دس سال تک چپ رہنا پڑا مگر میں بزدل نہیں ہوں اور یزیدیت پر کبھی خاموش نہیں رہ سکتا۔

بانی پی ٹی آئی نے اپنے پیغام میں سمبڑیال کے ضمنی الیکشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام کا فیصلہ وہی ہے جو 8 فروری کو انھوں نے سنایا تھا، مگر اس الیکشن میں بھی بے شرمی سے دھاندلی کر کے عوامی مینڈیٹ کو پیروں تلے روندا گیا۔عمران خان نے کہا کہ جنھوں نے 8 فروری کا دو تہائی مینڈیٹ چرا لیا وہ ہمیں ضمنی انتخاب کیسے جیتنے دیتے؟ کیونکہ ان کو یہی ڈر ہے کہ میں جیل سے باہر نہ آ جاؤں، لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ (ن )لیگ اور پیپلز پارٹی کی حیثیت اب سیاسی لاشوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے، ان کو اپنے اصل ٹھکانے لندن واپس چلے جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو کرش کرنا ‘ لندن پلان’ کا حصہ تھا اور لندن پلان کے تحت ہی نو مئی بھی کروایا گیاجس کا مقصد تحریک انصاف کو توڑنا اور ختم کرنا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں عدلیہ مکمل طور پر مفلوج ہے، اب ہم سے مخصوص نشستیں بھی چھبیسویں ترمیم والی عدالتوں کے ذریعے چھیننے کی کوشش میں ہیں۔حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم اس حکومت سے کیا بات کریں جو خود دو این آر اوز کی پیداوار ہے، اس حکومت میں بیٹھی کٹھ پتلیوں نے پہلے مشرف اور پھر باجوہ سے این آر او لیا اور اپنی چوریاں معاف کروائیں۔انہوں نے کہا کہ میرے تمام انسانی حقوق معطل ہیں، میں 2 سال سے قید میں ہوں جبکہ میری اہلیہ کو 14 ماہ سے قید میں رکھا گیا ہے، میں یہ سب ظلم صرف قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں اور کسی صورت ڈیل نہیں کروں گا۔انہوں نے کہا کہ میرا اسٹیبلشمنٹ کو پیغام ہے کہ آپ کو تحریک انصاف کی ضرورت ہے مجھے آپ کی کوئی ضرورت نہیں، اصل طاقت اسی کے پاس ہوتی ہے جس کے ساتھ عوام ہو۔

بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ تین وجوہات کی وجہ سے اس وقت قوم کو اتحاد کی شدید ضرورت ہے: ایک تو یہ کہ مودی اس وقت زخمی ہے اور پاکستان پر ایک مرتبہ پھر حملہ آور ہو سکتا ہے، بھارت کی معیشت ہم سے کافی مضبوط ہے اور 700 ارب ڈالر کے ذخائر ہیں، ہمیں بھی معاشی لحاظ سے مضبوط ہونا ہو گا تاکہ بھارت کا مقابلہ کر سکیںـانہوں نے کہا کہ پھر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آئے روز دہشتگردی کے واقعات بڑھ رہے میں جس میں معصوم لوگ شہید ہو رہے ہیں، اور تیسرا یہ کہ معیشت مکمل طور پر تباہ حال ہے اور سرمایہ دار اور نوجوان مسلسل بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں۔عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ جس ملک میں انصاف نہ ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری نہیں آ سکتی، سرمایہ کاری کے لیے کوئی بھی کلیہ آزما لیں عوام کی منشاء کی حکومت جب تک قائم نہیں ہو گی یہ بس ایک خواب ہی رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…