جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

سب سے پہلے پاکستان کو خلا میں لے کر جائیں گے، چین کا اپنے سپیس سٹیشن اور پا کستان کے با رے بڑا اعلان

datetime 25  اپریل‬‮  2025 |

بیجنگ(نیوز ڈیسک)  پاکستان کے لیے ایک تاریخی لمحہ آن پہنچا ہے، کیونکہ ایک پاکستانی خلا باز جلد ہی چین کے خلائی اسٹیشن “تیانگونگ” پر جانے والے پہلے غیر ملکی شہری بننے جا رہے ہیں۔ یہ پیش رفت بیجنگ اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتے ہوئے خلائی تعاون کی علامت ہے اور مدار میں امریکہ کے ساتھ مقابلے کے دوران چین کی خلائی سفارت کاری کا ایک اہم حصہ ہے۔چین کی مینڈ اسپیس ایجنسی (CMSA) کے مطابق، پاکستانی خلا باز کا انتخاب اگلے چند ماہ میں کیا جائے گا اور وہ بطور “پے لوڈ اسپیشلسٹ” اپنے فرائض انجام دے گا، جس میں سائنسی تجربات اور روزمرہ کی ذمے داریاں شامل ہوں گی۔

یہ پہلا موقع ہوگا کہ تیانگونگ خلائی اسٹیشن کسی غیر چینی خلا باز کی میزبانی کرے گا، جو کہ 2021 سے فعال ہے۔پاکستان کی خلائی ایجنسی سپارکو کے نائب سربراہ امجد علی نے اس خبر کو پاکستان کے لیے ایک “سنگ میل” قرار دیا۔ ان کے مطابق، پاکستان پانچ سے دس خلا بازوں کے ناموں کی فہرست مرتب کرے گا، جس میں سے چین دو کو منتخب کرے گا۔ ان میں سے ایک خلا باز کو چھ ماہ سے ایک سال تک کی تربیت دی جائے گی اور وہ اکتوبر 2025 میں خلا کا سفر کرے گا، جبکہ دوسرا خلا باز بیک اپ کے طور پر موجود ہوگا۔سائنسی اور تکنیکی تعاون کی نئی راہیںعامر گیلانی، جو سپارکو میں انسانی خلائی مشن کے شعبے کے انچارج ہیں، نے سی این این کو بتایا کہ خلائی اسٹیشن پر انجام دیے جانے والے سائنسی تجربات کا انتخاب جاری ہے، تاہم یہ تجربات “سائنسی، صنعتی اور سماجی طور پر بہت اہم ہوں گے”۔اس مشن کی بنیاد رواں سال فروری میں پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تعاون پر دستخط شدہ معاہدے میں رکھی گئی تھی۔

منگل کے روز چینی خلائی ٹیکنالوجی کمپنی “گیلیکسی اسپیس” کے وفد نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور پاکستان میں خلائی صنعت میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔وزیر اعظم نے چین کو پاکستان کا “سب سے قابل اعتماد دوست اور اسٹریٹیجک پارٹنر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ سمیت خلائی شعبے میں چین کے ساتھ تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔چین کی خلائی دنیا میں تیزی سے ترقیچین نے حالیہ برسوں میں خلائی تحقیق میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ چاند اور گہرے خلاء کی تحقیق کے منصوبے، سیٹلائٹس کی تیاری، اور تیانگونگ خلائی اسٹیشن کی ترقی اس کی مثالیں ہیں۔جمعرات کو چین کے جیوکوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے “شنزو-20” مشن روانہ ہوگا، جس کے ذریعے تین چینی خلا باز تیانگونگ اسٹیشن جائیں گے۔ یہ نوواں مشن ہے جو اس خلائی اسٹیشن کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ مشن کے دوران سائنسی تجربات، خلائی ملبے سے بچاؤ کے آلات کی تنصیب، اور جانداروں پر تحقیق کی جائے گی، جن میں زیبرا فش، پلانیرین ورم اور اسٹریپٹو مائس بیکٹیریا شامل ہیں۔

دسمبر میں چین نے اعلان کیا تھا کہ اس نے اپنے قمری مشن سے حاصل کردہ چاند کی مٹی کے نمونے دنیا کے چھ ممالک کے سات تحقیقی اداروں کو دیے ہیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ہانگ کانگ یونیورسٹی کے فلکیات کے پروفیسر کوئنٹن پارکر نے کہا:”بین الاقوامی خلائی تعاون موجودہ عالمی حالات میں بہت اہم ہے۔ جب مختلف اقوام مل کر کام کرتی ہیں، تو وہ ایسے نتائج حاصل کر سکتی ہیں جو انفرادی طور پر ممکن نہیں ہوتے۔”یہ مشن نہ صرف پاکستان کی خلائی تاریخ میں ایک نیا باب کھولے گا بلکہ چین اور پاکستان کے درمیان دوستی اور تکنیکی تعاون کو بھی ایک نئی بلندی پر لے جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…