جمعرات‬‮ ، 08 جنوری‬‮ 2026 

اسٹیبلشمنٹ شہباز شریف کی صلاحیتوں سے خوش‘ کارکردگی بہترین قرار دیدی

datetime 22  اپریل‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سینئر صحافی انصار عباسی نے اپنے حالیہ کالم میں دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ عسکری قیادت، جس کی سربراہی آرمی چیف جنرل عاصم منیر کر رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کی کارکردگی اور انتظامی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد رکھتی ہے۔انہوں نے لکھا کہ ایک اعلیٰ سطحی ذریعے کے مطابق شہباز شریف نے اپنی محنت، نظم و ضبط، خارجہ پالیسی میں محتاط رویے اور ریاستی طاقت کے نظام کو سمجھنے کی صلاحیت کے باعث اسٹیبلشمنٹ کا اعتماد حاصل کیا ہے۔

انصار عباسی کے مطابق، موجودہ سیاسی بحران اور معاشی مشکلات کے باوجود عسکری ادارے انہیں ملک کی قیادت کے لیے موزوں ترین فرد سمجھتے ہیں۔کالم میں مزید انکشاف کیا گیا کہ یہ اعتماد صرف ایک طرفہ نہیں، بلکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی متعدد مواقع پر آرمی چیف کی پیشہ ورانہ صلاحیت، نظم و ضبط اور قومی سوچ کی تعریف کی ہے، اور ملکی مسائل سے نمٹنے کے لیے فوج کے کردار کو سراہا ہے۔ذرائع کے مطابق، جنرل عاصم منیر نے بھی نجی محفلوں میں شہباز شریف کی قائدانہ صلاحیتوں کو تسلیم کیا ہے۔

انصار عباسی نے لکھا کہ ملکی تاریخ میں ایسا منظر بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے جہاں اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت کے درمیان اس قدر باہمی اعتماد موجود ہو۔کچھ تجزیہ کار اگرچہ یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ شہباز شریف بعض اوقات اسٹیبلشمنٹ کی توقعات پر پورا نہیں اترے، تاہم باخبر ذرائع ان باتوں کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہیں۔ شہباز شریف کو ہمیشہ ایک مؤثر منتظم اور اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے رہنما کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔انصار عباسی نے مزید لکھا کہ ماضی میں جب جنرل (ر) پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت ختم کی تھی، تب بھی وہ شہباز شریف کی انتظامی صلاحیتوں کے معترف تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ 2013 سے 2017 کے درمیان نواز شریف کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات کشیدہ ہونے کے باوجود، شہباز شریف کو اقتدار کے لیے ایک قابلِ قبول آپشن سمجھا جاتا تھا۔ تاہم، جب شہباز شریف نے اپنے بھائی نواز شریف کا ساتھ نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا، تو انہیں جیل کی سزا کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی حمایت عمران خان کی طرف منتقل ہو گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…