ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

ظالموں جواب دو، مروت کو حساب دو ’مجھے کیوں نکالا‘، پارٹی سے نکالے جانے پر شیر افضل کا سوال

datetime 14  فروری‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی میں ایوان حزب اختلاف کے نعروں سے گونجتا رہا، شیر افضل مروت نے پارٹی سے نکالے جانے پر اپنی ہی پارٹی سے سوال پوچھا کہ مجھے کیوں نکالا؟اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو وقفہ سوالات کے دوران مہرین رزاق بھٹو نے پوچھا کہ ایف بی آر ٹیکس کلیکشن کا ہدف کیسے وقت پر پورا کریگا، 386 ارب ٹیکس کلیکشن کی شارٹ فال ہے جس پر پارلیمانی سیکریٹری سعد وسیم نے جواب دیا کہ یہ حقیقت ہے کہ ہمیں شارٹ فال کا سامنا ہے لیکن حکومت کا مزید ٹییکسز لاگو کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔

پیپلز پارٹی کی رکن سحر کامران نے سوال کیا کہ زراعت شماری صحیح نہیں ہوئی تو حکومت منصوبہ بندی کیسے کرے گی، جس پر پارلیمانی سیکرٹری وجیہہ قمر نے جواب دیا کہ 15 سال بعد زراعت شماری ہورہی ہے اس مرتبہ سینس کو قابل اعتبار بنانے کے لیے جامع کام کیا جارہا ہے، زراعت سمیت لائیو سٹاک کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا جارہا ہے۔اجلاس کے دوران شیر افضل مروت اپوزیشن گیٹ کے بجائے حکومتی گیٹ سے ایوان میں داخل ہوئے جبکہ ان کی اسمبلی آمد پر حکومتی اراکین نے ڈیسک بجائے جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ آپ لوگ انہیں مروا نہ دینا۔اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران اسپیکر نے موبائل کمپنیوں کے ضم ہونے پر ضمنی سوال کرنے کا کہا تو شیر افضل مروت نے کہا کہ میرا سوال تو ابھی صرف اپنے لوگوں سے ہے کہ مجھے کیوں نکالا ہے؟شیر افضل مروت کے مختصر نکتہ اعتراض پر حکومتی ارکان نے قہقہے لگائے لیکن پی ٹی آئی اراکین خاموش رہے، اس موقع پر حکومتی اراکین نے بھی شیر افضل مروت کا ساتھ دیتے ہوئے مروت کو کیوں نکالا ظالمو جواب دو، مروت کو حساب دو، کے نعرے لگائے جبکہ حکومتی اراکین نے بیرسٹر گوہر کو دیکھ کر کہا کہ آپ بھی ہمارا ساتھ دیں۔

اسمبلی کی کارروائی کے دوران مسلم لیگ ن کے رکن حنیف عباسی نے ہلکے پھلکے انداز میں شیر افضل مروت سے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، پی ٹی آئی میں واپس بھجوائیں گے۔اجلاس کے دوران بیرسٹر گوہر نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کا مطالبہ کیا لیکن انہیں بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جس پر پی ٹی آئی کے شاہد خٹک نے کورم کی نشاہدہی کردی، پینل آف چیئر بلال اظہر کیانی کی گنتی کی ہداہت پر کورم نامکمل نکلا جس پر اجلاس پیر کی شام 5 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…