بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

آئینی بینچ نے قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف درخواست پر اپنا پہلافیصلہ سنا دیا

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)آئینی بینچ نے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر نظرِ ثانی درخواست خارج کر دی۔سپریم کورٹ میں قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کیس کی سماعت پوئی۔جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بینچ نے آئینی کیس کی سماعت کی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ نظرِ ثانی درخواست ہے، کیس کو دوبارہ نہیں کھول سکتے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھٹو کیس بھی 40 سال بعد سنا۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ فورم سیاسی تقاریر اور نہ پیٹھ پیچھے بات کرنے کا ہے، قانون سے نہیں ہٹ سکتے۔جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا ہے کہ آپ غصے میں کیوں آرہے ہیں؟ عدالت کی بات سنیں۔جسٹس امین الدین نے کہا کہ عدالت آپ سے سوالات پوچھ رہی ہے لیکن آپ جواب کیوں نہیں دے رہے؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کیس دوبارہ کھولنا چاہتے ہیں؟ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ میں عدالت کو حقائق بیان کر رہا ہوں، میرے پاس ریکارڈ نہیں لیکن بلوچستان سے ریکارڈ منگوایا جا سکتا ہے۔جسٹس امین الدین نے کہا کہ قانون بتائیں کہ وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ مشاورت کیسے ضروری ہے؟جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کیسز میں پرسنل نہ ہوا کریں، چھوڑ دیں قاضی صاحب کی جان۔

جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا ہے کہ ایسی درخواست پر بینچ کے سربراہ سے درخواست کروں گا کہ معاملہ پاکستان بار کونسل کو بھیجیں۔ آئینی بینچ نے قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر نظرِ ثانی کی درخواست خارج کر دی۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ ا?ف پاکستان میں آئینی کیسز سے متعلق سماعت جاری ہے۔جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بینچ کیسز کی سماعت کر رہا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی آئینی بینچ میں شامل ہیں۔جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر بھی 6 رکنی آئینی بینچ کا حصہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…