جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

کوئٹہ، مسلح افراد نے ناکہ لگا کر 23 مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر قتل کر دیا

datetime 26  اگست‬‮  2024 |

موسیٰ خیل (این این آئی)بلوچستان کے ضلع موسٰی خیل کے علاقے راڑہ شم کے مقام پر ٹرکوں اور مسافر بسوں سے اتار کر شناخت کے بعد 23 مسافروں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔ فیصل آباد جانے والی ڈائیوو بس سے 6 اور پک اپ سے 2مسافروں کو اتار کر اغوا کرکے لے گئے ۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوا زشریف نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم لوگوں کو نشانہ بناکر ظلم کا مظاہرہ کیا،ملزموں کاانجام عبرتناک ہوگا۔ایس ایس پی موسیٰ خیل ایوب اچکزئی کے مطابق تمام افراد کو ٹرکوں اور مسافر بسوں سے اتار کر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔ مسلح افراد نے 10 گاڑیوں کو آگ بھی لگا دی۔ان کا کہنا ہے کہ پولیس اور لیویز جائے وقوع پر پہنچ گئی ہیں، لاشوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ ضلع موسیٰ خیل بلوچستان کی شمال مشرقی سرحد پر واقع ہے جو خیبر پختون خوا اور پنچاب سے متصل ہے۔ ایس ایس پی موسیٰ خیل ایوب اچکزئی کے مطابق مسلح افراد نے بین الصوبائی شاہراہ پر راڑہ شم کے قریب ناکہ لگا کر مذموم کارروائی کی۔مسلح افراد نے ٹرکوں اور بسوں سے مسافروں کو اتارا اور پھر فائرنگ کرکے تمام افراد کو قتل کردیا، تمام افراد کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہے۔

ایس ایس پی موسیٰ خیل کے مطابق ملسح افراد نے فرار ہونے سے قبل 10 سے زائد گاڑیوں کو بھی نذر آتش کردیا۔ترجمان پولیس کے مطابق پولیس کی بھاری نفری کے علاوہ لیویز حکام موقع پر پہنچ گئے اور لاشوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔دوسری جانب بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل کے علاقے راڑہ شم کے مقام پر مسلح افراد نے نیشنل ہائی وے پر ناکہ لگایا اور کوئٹہ سے پنجاب کے شہر فیصل آباد جانے والی ڈائیوو بس سے 6 مسافروں کو اتار کر اغوا کرکے لے گئے اور 2 مسافر پک اپ سے تلاشی کے دوران اتار کرلے گئے۔مسافر نے بتایا کہ مسلح افراد بس اور پک اپ سے مجموعی طور پر 8 مسافر اغوا کرلے گئے ہیں، مسلح افراد نے شناختی کارڈ چیک کرکے مسافر اتارے۔مسافر عبدالشکور کا کہنا ہے کہ اغوا کیے گئے مسافروں کا تعلق پنجاب سے ہے، اغوا کاروں کی تعداد 20 سے 25 ہے جبکہ مین قومی شاہراہ ایک گھنٹے سے تاحال بند ہے۔

کمشنر لورالائی سے رابطے پر کمشنر سعادت حسن نے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ راڑہ شم کے بنیادی ہیلتھ یونٹ میں اب تک 23 لاشیں پڑی ہیں، کئی ٹرک اور پک اپ گاڑیاں نذر آتش کی گئی ہیں، ابھی تک 23 سے زائد گاڑیاں بلکل مکمل جل چکی ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دہشت گردی کے بدترین واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ موسی خیل کے قریب دہشت گردوں نے معصوم لوگوں کو نشانہ بناکر ظلم کا مظاہرہ کیا، سفاکیت اور ظلم کی انتہا کی گئی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں اور سہولت کار عبرتناک انجام سے بچ نہیں پائیں گے، دہشت گردی کی جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ زندگی کے ہر طبقے نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے 23 بے گناہ افراد کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا ہے۔



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…