بدھ‬‮ ، 28 جنوری‬‮ 2026 

ملک چھوڑ دیں گے لیکن اسٹیبلشمنٹ کے غلام نہیں بنیں گے،مولانا فضل الرحمن

datetime 24  مئی‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ2018سے زیادہ 2024کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے،پھر جبری طور پر ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ حکومت سازی کی گئی ، اب بھی اگر دیکھا جائے تو اقلیتی نمائندگی حکومت کر رہی ہے ۔ایک انٹرویو میں انہوںنے کہاکہ پیپلزپارٹی کا نمبرز پورا کرنے کے علاوہ حکومت میں کوئی رول نہیں ہے، یہ مینیجنگ اسٹیبلشمنٹ نے کی ہے اور ہم نے اس کے خلاف میدان عمل میں نکلے ہیں اور ملک بھر میں تحریک کا آغاز کر چکے ہیں۔انہوںنے کہاکہ یکم جون کو مظفر گڑھ پنجاب میں عوامی جلسہ عام ہوگا ،ہم نے پوری زندگی اس جمہوری نظام کے ساتھ گذاری ہے اسی تجربہ سے یہ بات واضح ہوئی کہ اس ملک سے لے کر امریکہ تک جمہوریت فقط دہوکہ کا نام ہے۔

انہوں نے کہاکہ2018میں بھی ہم نے اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت کے خلاف میدان عمل میں تھے، اب بھی میدان عمل میں ہیں لیکن اسٹیبلشمنٹ نے بھی ٹھان لی ہے کہ وہ ہر حال میں اپنی مرضی کے نتائج مرتب کریں گے، چاہے پھر عوام اس کو جس نظر سے بھی دیکھے ، لیکن ہم تسلیم نہیں کرتے ، ہم غلام بن کر زندگی نہیں گذار سکتے،ملک چھوڑنے کی نوبت آئی تو ملک چھوڑ دیں گے لیکن اسٹیبلشمنٹ کی غلامی منظور نہیں۔

انہوں نے افغانستان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہ ہم نے افغانستان میں جاکر پاکستان کے لئے بہتر تعلقات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ، افغان حکمران بھی پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لئے تیار تھے ، لیکن الیکشن میں ہماری قوت کو منصوبہ بندی کے ساتھ توڑا گیا ، جو جماعت پاکستان کے لئے خدمت کرے اسی کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی گئی ، اسی طرح دیگر پڑوسی ممالک کیساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش ہونی چاہئے، اس خطے کو متحد ہونا چاہئے اور ایشیا بلاک بننا چاہئے ، لیکن اس میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ اسٹیبلشمنٹ ہے، انڈیا کے ساتھ ہمارا جھگڑا کشمیر پر تھا ، اب کشمیر جب ان کو دے دیا تو یہ تنازعہ اب ختم ہونا چاہئے ۔



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…