جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

مقدس گائے کوئی نہیں ، اعلیٰ عدلیہ بھی نیب قانون کے دائرہ کار میں آتی ہے،عرفان قادر

datetime 8  جون‬‮  2023
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قانونی اصلاحات و احتساب عرفان قادر نے کہاہے کہ اعلیٰ عدلیہ بھی نیب قانون کے دائرہ کار میں آتی ہے،مقدس گائے کوئی نہیں ہے، جج صاحبان کے کیسز جوڈیشل کونسل میں ضرور چلیں گے ،جہاں کرپشن کا عنصر ملے گا اور کرپشن کے فوجداری قوانین لاگو ہوسکتے ہوں گے وہاں ججز کا بھی ٹرائل کیا جاسکتا ہے۔

آڈیو لیکس سے ایسے شواہد ملے جن میں کرپشن کا بھی عنصر ملتا ہے، حکومت نے بہت احتیاط سے کام لیا، انہی کے برادر ججز کا کمیشن بنایا، کمیشن کے سامنے بے گناہی ثابت کر سکتے تھے، اپنی مرضی کا بینچ بنا کر کمیشن کی کارروائی کو روک دیا،اس تناظر میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ بنایا گیا جس کا مقصد تھا چیف جسٹس پر کوئی انگلی نہ اٹھائے ،افسوس سے کہنا پڑتا ہے انہوں نے اپنی مرضی کا ایک اور بینچ بنا لیا ، اب عدلیہ نے ریویو ایکٹ اور پنجاب انتخابات کیس کی سماعت کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے، پارلیمنٹ کے قانون نہیں مان رہے اور اپنی مرضے سے الیکشن کرانے کی بھی کوشش کی ہے، ان سب چیزوں پر ہمیں اعتراضات ہیں،لقادر ٹرسٹ کیس میں بھی کچھ شواہد سامنے آئے ہیں، سابق وزیرِ اعظم کے اہل خانہ کو ملنے والے مزید تحائف کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، سابق وزیر اعظم کی اہلیہ کی دوست فرح گوگی اور ان کے شوہر کو واپس لانے کی کوشش کی جارہی ہے ،عدلیہ سے کوئی ڈیل نہیں ہورہی اور ہونی بھی نہیں چاہیے، مریم نواز کے خلاف جو کیس تھا وہ کلیئر ہوگیا۔

یہی کیس نواز شریف کا بھی ہے،کرپشن کے خاتمے تک ملک ترقی نہیں کر سکتا، جب تک احتساب نہیں ہو گا کرپشن ختم نہیں ہو گی۔ جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عرفان قادر نے کہا کہ نیب آرڈیننس 1999 کا مقصد ملک سے لوٹی ہوئی دولت واپس لانا ہے، سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کا احتساب تو ہوتا رہتا ہے لیکن سب کا بلا امتیاز احتساب ہونا چاہیے ۔

معاون خصوصی نے کہاکہ پبلک آفس ہولڈر کی تعریف میں فوجی افسران کو شامل نہیں کیا گیا ہے، حاضر سروس جرنیلوں کیلئے فوج کے اپنے قوانین ہیں، جو بہت سخت ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سپیریئر کورٹ ججز کے بارے میں کنفیوژن پیدا کردی گئی تھی کہ ان کے معاملے سپریم جوڈیشل کونسل میں جائیں گے، میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جہاں کرپشن کا عنصر ملے گا اور کرپشن کے فوجداری قوانین لاگو ہوسکتے ہیں وہاں ان کا بھی ٹرائل کیا جاسکتا ہے۔

انہوںنے کہاکہ گزشتہ چند برسوں میں دیکھا گیا کہ وزرائے اعظم کو نااہل کیا گیا اور پھر عدالت عظمیٰ نے یہ بھی کہا کہ ان کے کیسز نیب میں جائیں، بیوروکریٹس کے خلاف محکمانہ کارروائی ہوتی ہے اور سیاستدانوں کی نااہلی ہوتی ہے اس کے باوجود عدلیہ نے کہا کہ ان کے کیسز نیب میں بھی چلیں، لہذا جج صاحبان کے کیسز جوڈیشل کونسل میں ضرور چلیں گے تاہم اگر ان میں کرپشن کا عنصر پایا جاتا ہے تو نیب بھی ان کیسز کو دیکھ سکتا ہے، مقدس گائے کوئی نہیں ہے، اعلیٰ عدلیہ بھی نیب قانون کے دئرہ کار میں آتی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…