ملک کو بارشوں اور سیلاب نے نہیں بلکہ حکمرانوں کی کرپشن نے ڈبویا ، حافظ حسین احمد

  اتوار‬‮ 4 ستمبر‬‮ 2022  |  8:32

کوئٹہ/کراچی( این این آئی) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ ملک کو بارشوں اور سیلاب نے نہیں بلکہ حکمرانوں کی کرپشن نے ڈبویا ہے،حکومت اپنی نااہلی، ناکامی اور کرپشن کو چھپانے کے لیے کالاباغ ڈیم کا راگ الاپ رہی ہے،شہباز شریف ’’کالا باغ‘‘ کے ترپ پتے کو پنجاب میں اپنی گرتی ساکھ کو بچانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

وہ اتوار کو اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی موجودہ اتحادی حکومت جوکہ عوام کو مہنگائی ختم کرنے کا ’’سبز باغ‘‘ دکھانے میں ناکامی کے بعد اب طوفانی سیلاب کی آڑ میں پنجاب کے عوام کو ’’کالا باغ‘‘ کا دانہ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے اب سوال یہ ہے کہ کیا حکومتی شہباز الیون میںشامل تیرہ جماعتوں کی اس ٹیم کو اس فیصلے میں مولانا فضل الرحمن ، آصف زرداری اور اے این پی سمیت سب کی حمایت اور آشیرباد حاصل ہے ؟ اور کیا شہباز شریف اپنے لخت جگر حمزہ شریف کی پنجاب بدری اور لندن پناہ لینے کے حوالے سے صوبہ پنجاب کے عوام کے دلوں میں نرم گوشہ پیدا کرنے کے لیے کالا باغ کو سبز باغ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش نہیں کررہے ؟ کیا ’’کالا باغ ‘‘ کے اس مردہ گھوڑے کو زندہ کرنے کا ڈرامہ کالا باغ ڈیم بننے سے پہلے ہی کمزور تنکوں سے بنی اس اتحادی حکومت کو سیلاب میں بہا کر نہیں گرادے گی۔ حافظ حسین احمد نے کہا کہ ملک کو بارش کے سیلاب نے نہیں بلکہ حکمرانوں کی کرپشن نے ڈبویا ہے اور آج سندھ ، بلوچستان سمیت پاکستان کا خون چوسنے والے کرپٹ حکمرانوں کے کرتوتوں کو طوفانی سیلاب نے مزید واضح کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بارشوں کی پیشگوئی کے باوجود حکمرانوں نے کوئی اقدامات نہیں کئے جس کی وجہ سے سیلاب کی صورتحال پیدا ہوئی اور ملک کو اربوں کا نقصان ہوا جس سے کروڑوں لوگ متاثر ہوئے سینکڑوں لوگ لقمہ اجل بنے ، ملک کی اہم شاہراہوں اور پلوں کو نقصان ہوا، لاکھوں کی تعداد میں مال مویشی ہلاک ہوئے ،جمعیت کے رہنما نے کہا کہ حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے ملک ڈوبا ہے اگر بارشوں کی پیشگوئی ہونے کے بعد اقدامات کئے جاتے تو اتنا نقصان نہیں ہوتا لیکن افسوس کہ سیاستدان اقتدار کی جنگ میں مصروف رہے۔ انہوں نے کہا ماضی میں منصوبے اور ترقیاتی امداد صرف کاغذوں کے اندر تھے اب یہ سب کچھ سوشل میڈیا میں ہورہا ہے پہلے آفات کے متاثرین کی امداد بینکوں میں آتی تھی آج کل ’’ٹیلی ٹھون‘‘ کے ذریعے طفل تسلیاں دی جارہی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’’کالا باغ ‘‘ کے جس ترپ پتے کو شہباز شریف پنجاب میں گرتی ساکھ کوبچانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں اس سے ان کی پنجاب میں ساکھ خاک بحال ہوگی بلکہ باقی تین صوبوں میں وہ اپنے اتحادی مولانا فضل الرحمن، آصف زرداری، اسفند یار ولی، سردار اختر مینگل کی نہ صرف حمایت سے محروم ہونا پڑے گابلکہ اس کی بھرپور مذاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔



زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎